اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیل ملز کے نقصانات 600ارب روپے تک پہنچنے کا انکشاف

datetime 15  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اسٹیل ملز کے نقصانات 600 ارب روپے تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ مل کی اسٹیل ملز کی 305 ایکڑ پر انکروچمنٹ پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کا اجلاس سید حفیظ الدین کی زیرصدارت ہوا۔اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ اسٹیل ملز کے نقصانات 224 ارب اور ادائیگیوں کا بوجھ 335 ارب ہے، اس طرح مجموعی بوجھ تقریباً 600 ارب تک پہنچ چکا ہے۔دوران اجلاس اسٹیل ملز کے چیف فنانشل آفیسر محمدعارف نے انکشاف کیا کہ اسٹیل ملز کی 305 ایکڑ زمین پر انکروچمنٹ ہو چکی ہے اور اسٹیل ملز میں ابھی بھی چوری کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اسٹیل ملز نیشنل بینک کی 258 ارب روپے کی نادہندہ ہے جہاں کمپنی پر نیشنل بینک کے 102 ارب اور وفاقی حکومت کے 156 ارب واجب الادا ہیں۔وفاقی وزیر رانا تنویر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اسٹیل ملز کی تقریباً پانچ ہزار ایکڑ زمین پر اسپیشل اکنامک زونز بنایا جائے گا اور موجودہ پلانٹ کے لیے 700 ایکڑ زمین سندھ حکومت کو دی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ روس سمیت دیگر ممالک کی کمپنیاں اسٹیل ملز کو چلانا چاہتی تھیں لیکن اسٹیل ملز کو بحال کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی کپیسٹی نہیں ہے، اسٹیل ملز کی دو ارب کی بیٹری کے لیے ہر سال چھ ارب کی گیس دینا پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کی جو بھی زمین فروخت ہو گی، اس پر ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بننے دیں گے۔دوسری جانب رکن کابینہ کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے کہا کہ اسٹیل ملز کے ملازمین نو ہزار سے کم ہو کر دو ہزار تک رہ گئے ہیں اور اسٹیل ملز کی زمین پر سب کی نظریں ہیں۔چیف فنانس آفیسر محمد عارف نے بتایا کہ اسٹیل ملز میں تحقیقات کے لیے ناز بلوچ کی زیرصدارت ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…