منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نے میزائل لانچروں کی منتقلی شروع کر دی

datetime 7  اگست‬‮  2024 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی حکام نے بتایا ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے کے اختتام سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ ایران نے راکٹ لانچروں کو حرکت میں لانا شروع کر دیا ہے اور فوجی مشقیں بھی کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ تہران آنے والے دنوں میں حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ادھر بائیڈن انتظامیہ اسرائیل پر ایران کے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ تاہم اسے اس کوشش میں نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

رواں سال اپریل میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون طیاروں اور میزائلوں کی بوچھار روکنے میں کثیر القومی اتحاد کی تل ابیب کے لیے مدد کامیاب رہی تھی۔ایران پہلے ہی یہ عندیہ دے چکا ہے کہ وہ اسرائیل کو تہران میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا جواب دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس بات نے بائیڈن انتظامیہ کے ذمے داران کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس مرتبہ ایرانی حملے کو لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور تہران کے دیگر ایجنٹوں کی یلغار کا ساتھ مل سکتا ہے۔خطے میں وسیع جنگ چھڑنے سے غزہ میں فائر بندی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی ان کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔

وائٹ ہائوس میں قومی سلامتی کے اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کو خطے کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں شخصیات کو بتایا گیا کہ یہ بات غیر واضح ہے کہ ایران اور حزب اللہ اسرائیل پر حملے کو کب ترجیح دیں گے اور ممکنہ حملے کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو میلر نے پیر کے روز بتایا کہ امریکا نے سفارتی راستوں سے بعض ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو آگاہ کریں کہ مشرق وسطی میں جارحیت میں اضافہ تہران کے مفاد میں نہیں ہے۔گذشتہ ہفتے حماس کے سیاسی بیرو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایرانی دار الحکومت تہران میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس حملے نے اسرائیل سے انتقام لینے کی دھمکیوں کی آگ بھڑکا دی۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ غزہ کا تنازع مشرق وسطی میں ایک وسیع جنگ کی صورت اختیار کر لے گا۔ایران اسماعیل ہنیہ کی موت کا ذمے دار اسرائیل کو ٹھہراتا ہے جب کہ اسرائیل نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…