منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کراچی اورخیبرپختونخوامیں گٹکے اورنسوارکاکاروبارعروج پرپہنچ گیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) سندھ کے دارلحکومت کراچی اورخیبرپختونخومیں گٹکے اورنسوارکاکاروبارعروج پرپہنچ گیا۔خیبر پختونخواہ میں روزانہ 3کروڑ روپے کی نسوار استعمال کی جاتی ہے جبکہ کراچی میں روزآنہ چار سے پانچ لاکھکا گٹکا بہ آسانی فروخت ہوجاتا ہے،ایک تحقیق کے مطابق 13 سے 15 سال کی عمر کے نوجوانوں میں گٹکا اور نسوار کے استعمال کے رحجان میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔یہ بات آغا خان یونیورسٹی میڈیکل ہسپتال کے ڈاکٹر محمد وارث پنجانی نے گزشتہ شام محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میں منائے جانے والے ہیلتھ کئیر ڈے کے موقع پر دیئے جانے والے ایک لیکچر کے دوران بتائی ۔انہوں نے کہا کہ پان،چھالیہ،چونا،گٹکا، نسوار اور سگریٹ کے استعمال کی بنا پر منہ اور پھپڑوں کے کینسر کے 70 فی صد امکانات پیدا ہوجاتے ہیں ،کینسر ہوجانے کے بعد ایک مریض کی جانب سے پانچ سال تک بہترین علاج کرانے کے باوجود اس کے زندہ بچنے کے امکانات 50 فی صد رہ جاتے ہیں اور اگر وہ بچ بھی جائے تو کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کینسر کا واحد علاج سرجری ہے اور اگر کینسر پورے جسم میں پھیل جائے تو پھر اس علاج ممکن نہیں رہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ منہ میں چھالا ہوجائے تو اس کے علاج میں غفلت نہ برتنی چاہیے اور اگر تین ہفتہ تک علاج کے باوجود وہ ختم نہ ہورہا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے بیاپسی کرانی چاہیے تاکہ مرض کی صحیح تشخیص ہو سکے۔ڈاکٹر وارث نے نوجوان طبقہ میں گٹکا کے بڑھتے استعمال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کو بتایا کہ اس کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان معدہ،منہ اور خوراک کی نالی کو ہوتا ہے اور اس کو پابندی سے کھانے والوں کے دانت اور مسوڑھے خراب ہو جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گٹکا استعمال کرنے والے افرادنفسیاتی بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں جن میں بے خوابی اور ڈپریشن قابل ذکر ہیں،علاوہ ازیں گٹکا استعمال کرنے والوں کو سینہ میں درد،دل کی دھڑکن تیز ہوجانے اور نبض بے ترتیب ہو جانے کی بھی شکایات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل سگریٹ نوشی کے عادی افراد بالآخر پھپڑوں کے سرطان کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جان بچانے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ اچھی صحت کے حامل نوجوان ایک اچھے معاشرہ کی تخلیق میں مثبت رول انجام دے سکتے ہیں اس لئے چاہیے کہ وہ ایک خوشگوار زندگی گذارنے کے لئے سگریٹ،شیشہ، نسوار،پان،چھالیہ،چونا اور گٹکا کے استعمال سے اپنے آپ کو دور رکھیماہرین نے کہاہے کہ یہ کاروبارتوٹھیک ہے لیکن اس سے شہریوں کی صحت کونقصان کازیادہ خدشہ ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…