منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

چینی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں منوبہ سازی میں اظہاردلچسپی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) چین کے سرمایہ کاروں نے پاکستانی تاجروں کے ساتھ شمسی اور کوئلے سے توانائی کی پیداوار کے منصوبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو ایشیاء پیسیفک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سن ہوئی اور مین شائن کی مس فینگ وونگ نے لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستانی اور چینی تاجروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ سازی سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں شفقت علی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ ایک سوال کے جواب میں چینی وفد کے اراکین نے کہا کہ وہ متحدہ ارب امارات کے تاجروں کے ساتھ بھی مشترکہ منصوبہ سازی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی تاجر برادری پاکستان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہمہ وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کو تیار ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چینی تاجروں کے درمیان زراعت، لائیوسٹاک، انفراسٹرکچر، توانائی، آٹوموبیل اور دیگر شعبوں میں تعاون اور مشترکہ منصوبہ سازی کا فروغ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کو معاشی اور دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کاروباری ماحول انتہائی بہترین اور سرمایہ کار دوست ہے جس سے چینی تاجروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ باہمی تجارت بڑھ رہی ہے لیکن دونوں ممالک کی پوٹینشل اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قالین، لیدر، لیدر مصنوعات، آلات جراحی، کھیلوں کا سامان، پھل، سبزیاں، چاول، فارماسیوٹیکل اور کپاس سمیت پاکستانی مصنوعات معیار کے حوالے سے بہترین ہیں لہذا چینی درآمد کنندگان کو یہ اشیاء پاکستان سے ترجیحی بنیادوں پر منگوانی چاہئیں۔ شیخ محمد ارشد نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تاجر تعمیرات، ہوٹل، سیاحت، ایس ایم ایز، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کارپوریٹ فارمنگ، سی فوڈ، فوڈ پراسیسنگ، بینکنگ اینڈ فنانس، لائٹ انجینئرنگ وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان کو چینی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جبکہ چین اس شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، اگر اس شعبے میں مشترکہ منصوبہ سازی کی جائے تو اس سے دونوں ممالک کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار بڑھنے سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری ہوگی بلکہ اضافی پیداوار چین کو بھی برآمد کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں بھی دونوں ممالک مل کر کام کرسکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…