اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

حکومت کیخلاف گرینڈ الائنس، افتخارچوہدری کے غلط فیصلے،وسیم سجاد کا تہلکہ خیز انٹرویو

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سینٹ کے سابق چیئر مین اور سینئر قانون دان وسیم سجاد نے کہا ہے کہ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو وکلاءپھر اکٹھے ہو جائینگے ¾ بعض امور پر اختلافات کے باوجود جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کےلئے سب اکٹھے ہوسکتے ہیں ¾جسٹس افتخار چوہدری کے بعض فیصلے آئینی حدود سے تجاوز تھے ۔ایک انٹرویو میں وسیم سجاد نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی چپقلش کی پرانی تاریخ دہرائی جارہی ہے جس سے عوام میں مایوسی پیدا ہونا فطری ہے اس طرح عوام کا جمہوری اداروں سے اعتماد اٹھتا ہے ہمارے ہاں ابھی جمہوری کلچر پیدا نہیں ہوسکا اس کےلئے سیاستدانوں کو بالغ نظری کا مظاہرہ کر نا ہوگا ¾ذاتی رنجشوں کو سیاسی مخالفت نہ بنائیں جمہوریت میں نظریاتی مخالفت ہوتی ہے دشمنی نہیں ہوتی ۔انہوںنے کہاکہ دیگر ممالک میں سیاستدانوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوسکا ۔یہاں جمہوری اقدار کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ میرے خیال میں پاکستان کا سب سے بہتر دور محمد خان جونیجو کا تھا آٹھ برس بعد اسمبلیاں بحال ہوئی تھیں اور وہ وزیر اعظم بنے تھے ۔انہوںنے جمہوری نظام کو استحکام بخشا وزراءکی شکایت پر فوری ایکشن لیتے تھے اور پارلیمنٹ کو وقعت دیتے تھے ۔ارکان اسمبلی سے ملاقتیں کرتے اور ان کی تجاویز کو حکومتی پالیسی کا حصہ بناتے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ نواز شریف نے بجلی کا بحران حل کر نے سمیت کئی وعدے کئے تھے مگر وہ ان میں کامیاب نہیں ہوسکے آج بھی بجلی کا بحران ¾ بے روز گاری اور مہنگائی بڑھ رہے ہیں ان حالات میں حکومت کا مدت پوری کر نے کا انحصار عوامی رد عمل پر ہے ۔اپوزیشن جماعتیں حکومت کو وقت دیناچاہتی ہیں لیکن اس وقت وہ بھی متحد نہیں ہیں آئندہ پانچ چھ ماہ میں صورتحال واضح ہوسکتی ہے ۔عمران خان کے بارے میں وسیم سجاد نے کہاکہ عوام کو ان میں ایک امید نظر آئی تھی لیکن چند ماہ سے ان کی سیاسی سوچ میں کمزور ی آرہی ہے دھرنے کے دور ان حکومت گھٹنے ٹیک چکی تھی اور عمران خان اپنے مطالبات منوا سکتے تھے مگر نواز شریف کے استعفے کے مطالبے پر ضد کر کے انہوںنے موقع کھو دیا اور سیاسی سمجھداری کا مظاہرہ نہ کر سکے اسی طرح جو ڈیشل کمیشن کے حوالے سے بھی وہ مار کھا گئے منظم دھاندلی ثابت کر نا ممکن ہی نہیں تھا بہر حال تین حلقوں میں ان کے موقف کی کامیابی نے انہیں جان عطا کر دی ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔تحریک انصاف پنجاب میں مسلم لیگ (ن)کا مقابلہ کرسکتی ہے اور اسے ٹف ٹائم دے سکتی ہے ۔کراچی آپریشن کے بارے میں انہوںنے کہاکہ اس سے حکومت کی رٹ مضبوط ہوئی ہے جرائم میں کمی آئی ہے اگر سیاسی مصلحت آڑے نہ آئی اور بلا امتیاز بد عنوان اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو حالات مزید بہتر ہو نگے کراچی میں بیرونی طاقتیں بھی ملوث ہیں اگر ہمارے ادارے کام کرتے رہے تو حالات درست ہو جائینگے ۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس کے امکانات موجود ہیں اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہورہی ہیں چوہدری شجاعت حسین اس کےلئے کوشاں ہیں اور وقت گزر نے کےساتھ ساتھ اس ضرورت کو محسوس کیاجارہا ہے ۔ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ جسٹس افتخار چوہدری نے جو ڈیشل ایکٹو ازم کو بہت بڑھا دیا تھا جس کے باعث دیگر ادارے متاثر ہورہے تھے آئینی حدود میں رہا جائے تو اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں مگر انہوںنے آئینی حدود سے تجاوز کیا جس سے نقصان ہوا اگر چیف جسٹس از خود نوٹس لے لے تو اس معاملے پر ماتحت عدلیہ مفلوج ہو کررہ جاتی ہے اس ضمن میں اصلاحات ضرور ی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…