اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

شاہد آفریدی اور عمران ریاض آمنے سامنے آگئے

datetime 23  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے معروف صحافی، اینکر اور یوٹیوبر عمران ریاض خان اور سابق کپتان شاہد آفریدی کی لفظی جنگ میں نیا موڑ آگیا ہے، شاہد آفریدی نے عمران ریاض کی پوسٹ کا جواب دے دیا ہے۔گزشتہ روز عمران ریاض خان نے شاہد آفریدی پر طویل پوسٹ کرکے اس لفظی تکرار کا آغاز کیا۔اپنی پوسٹ میں عمران ریاض خان نے کہا تھا کہ ’شاہد آفریدی کو قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا مگر انہوں نے ملک لوٹنے والوں سے لے کر مینڈیٹ چوری کرنے والوں تک کو مبارکبادیں دیں۔

لوگوں نے برادشت کیا مگر جب اپنی مقبولیت کی دھن میں مگن شاہد خان آفریدی نے پاکستان کے سب سے بڑے عوامی لیڈر پر کھل کر تنقید کرنا شروع کی تو لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ’عمران ریاض نے مزید لکھا کہ ’پاکستان میں شاہد آفریدی کی طرح ان سے کم تر اور ان سے بہتر بہت سے سٹارز موجود ہیں۔ جو آج بھی مختلف انداز میں خود کو عوام سے جوڑے ہوئے ہیں۔ ان سب کی بھی اپنی اپنی سیاسی سوچ ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی عوام کی دل آزاری نہیں کی۔ مگر شاہد آفریدی کی نظریں شائد کسی اور ٹارگٹ پر مرکوز ہیں۔‘انہوں نے لکھا کہ ’عہدوں کے حصول کے لیے عزت داؤ پر لگانا ایک ہیرو کو زیب نہیں دیتا۔ اگر بولنا ہی تھا تو شاہد آفریدی کو ظلم اور جبر کے خلاف بولنا چاہئے تھا تاکہ جن لوگوں نے اسے پیار دیا ان کی محبتوں کا حق ادا ہوتا، مگر لالہ نے ہمیشہ غلط شارٹ کھیل کر خود کو آؤٹ کروانے کی روایت برقرار رکھی۔

‘عمران ریاض کی اس پوسٹ پر شاہد آفریدی نے جواب دیا کہ ’لائک ریٹویٹ، ویوز وغیرہ کے چکر میں سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، ایک صحافی اور ٹرول میں یہ ہی فرق ہوتا ہے کہ صحافی تحقیق کرتا ہے، بہتان تراشی تو سب سے آسان کام ہے، آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ عمران بھائی میرے رول ماڈل تھے جنہیں دیکھ کر میں نے کرکٹ شروع کی ورنہ میں کرکٹر نہ ہوتا۔ جھوٹ اور پراپگینڈے کی وجہ سے نہ میرا مؤقف بدلے گا اور نہ ہی اس سے تحریک انصاف یا عمران خان کی کوئی خدمت ہو گی۔

‘شاہد آفریدی کے اس ایکس پیغام پر جوابی وار کرتے ہوئے عمران ریاض خان نے کہا کہ محترم شاہد آفریدی صاحب آپ کی مجبوری دیکھتے ہوئے آپ پر ترس آرہا ہے۔ کاش آپ میں ظلم کے خلاف بولنے اور سچ کا سامنا کرنے کی جرات ہوتی۔عمران ریاض نے یہ بھی کہا کہ کاش آپ چھوٹے موٹے دنیاوی فائدوں کے حصول کی بجائے اپنے اس مقام پر اکتفا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپکو عوام کی نظروں میں عطا کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں آج بھی مایوس نہیں ہوں امید ہے آپ ایک دن ضرور سمجھ جائیں گے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…