منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

فائلرزسے ٹیکس کٹوتی کی وجہ ناکام ایس ایم ایس سروس قرار

datetime 3  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے فائلر و نان فائلر سے ودہولڈنگ ٹیکس وصولی کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز کا پتا چلانے کے لیے متعارف کرائی جانے والی ایس ایم ایس سروس ناکام ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آرنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں اور جمع نہ کرانے والوں کے لیے الگ الگ شرح سے ٹیکس لاگو کرنے کے باعث ٹیکس دہندگان اور ود ہولڈنگ ایجنٹس کی سہولت کے لیے ایس ایم ایس سروس متعارف کرائی ہے۔جس میں ٹیکس دہندہ کو یا ود ہولڈنگ ایجنٹ کو موبائل فون پر اے ٹی ایل کے بعد اسپیس اور اس کے بعد 13 ہندسوں پر مشتمل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبر درج کرکے 9966 پر بھجوانے سے ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کی معلومات کی سہولت فراہم کی گئی ہے مگر ودہولڈنگ ایجنٹس اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے شکایات کی جارہی ہیں کہ مذکورہ سروس سے فوری معلومات ملنا تو دور کی بات ہے کئی کئی روز تک جواب موصول نہیں ہوتا۔جس کے باعث ودہولڈنگ ایجنٹس کی جانب سے ٹیکس دہندگان سے ایکٹو ٹیکس پیئر ہونے کا ثبوت کے طور پر جمع کرائے جانے والے انکم ٹیکس گوشوارے کی کاپی طلب کرنا شروع کر دی گئی ہے جبکہ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندہ کو انکم ٹیکس گوشوارے کی کاپی فراہم کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ انکم ٹیکس گوشوارہ ٹیکس دہندہ کا خفیہ ڈاکیومنٹ ہوتا ہے جو ٹیکس دہندہ کی ملکیت ہوتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکخانوں اور دیگر ودہولڈنگ ایجنٹس کی جانب سے کسی بھی قسم کی ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا ثبوت مانگا جاتا ہے اور ایس ایم ایس سروس سے جواب نہ ملنے کے باعث ٹیکس گوشوارہ جمع ہونے کے باوجود ٹیکس دہندگان کو نان فائلرز تصورت کرتے ہوئے اضافی ٹیکس جمع کرانے کا کہا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی ایس ایم ایس سروس کی ناکامی کے باعث ٹیکس دہندگان ایف بی آر سے رجوع کررہے ہیں اور ایف بی آر اس سروس کو بہتر بنانے کے لیے پرال کو سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر زور دے رہا ہے تاہم ان مسائل کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو دشواریوں کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…