پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

بڑھاپے میں بھی خود کو جوان رکھنے کے 4 آسان طریقے

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

انسان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ خود کو فٹ رکھے اور بڑھاپے میں بھی جوان نظرآئے لیکن آج کی اس مصروف دنیا میں لوگ جوانی میں ہی بڑھاپے کا شکار نظر آتے ہیں تاہم تھوڑی سی کوشش سے اس منظر کو بدلا جا سکتا ہے اور بڑھاپے میں بھی جوانی جیسی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
مختلف شعبہ زندگی کے ماہرین نے 4 معمولی لیکن انتہائی قیمتی تجاویزدیں ہیں جن پر عمل زندگی کو خوشگوار اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔
سن اسکرین کا استعمال: گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت مسلسل برھ رہا ہے اور سورج کی روشنی میں کام کرنا جلد کے خلیوں کو تباہ کردیتا ہے اس لیے ہمیشہ باہر کام کرنے کے دوران چہرے اور جلد پر سن اسکرین لگائیں جو چہرے کو دھوپ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے اور انسان جوان نظرآتا ہے۔ ڈاکٹرز کاکہنا ہے کہ ایسی کریموں کا استمعال کیا جائے جو یو وی اے اور یووی بی سے منظور شدہ ہو اس لیے کہ ان کریموں سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ کینسر کا باعث بننے والی شعاعوں سے بھی جلد کو بچاتا ہے۔
بحیرہ روم کی غذائیں کھائیں: سبزیاں، زیتون کا تیل مچھلیاں اور دیگر میوہ جات کا استعمال عمر کے ڈھلنے کے عمل کو آہستہ کر دیتی ہیں اور جسم کو نہ صرف موٹاپے سے بچاتی ہیں بلکہ چہرے میں جوانی جیسی کشش اور دلکشی پیدا کردیتی ہیں۔ ان غذاؤں میں دل کی بیماریوں کے خدشات کو کم کرنے، شوگر اور کینسرکی بیماریوں سے بچانے کی بھی خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔
دماغ کو سرگرم اور تیز رکھنے کی ورزش: کراس ورڈز ، پزلز، ریڈنگ کی عادت اور دوستوں کے ساتھ دماغی مقابلے آپ کے ذہن کو تروتازہ اور تیز رکھتے ہیں اور دماغی مسلز کو بھر پور کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ اگر جسمانی ورزش بھی کی جائے تو سونے پر سہاگہ ہوجائے گا اور اس سے جسمانی فٹنس بھی ملتی رہے گی۔
تناؤ کو کم کریں: یوگا کی مشقیں جسیے گہرے سانس لینا اور روٹین کی مصروفیات کو کم کرنے جیسی کوششیں اسٹریس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور اسٹریس کا کم ہونا عمر کے ڈھلنے کے عمل کو کم کردیتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خوش رہنے والوں کے چہرے بھی شاداب رہتے ہیں۔ جو لوگ زیادہ تر اسٹریش کا شکار رہتے ہیں ان کے چہرے پر بڑھاپنے کے آثار گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…