اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھریلو کام کاج خاص طور پر برتن دھونا دباو¿ کم کرنے کی ایک غیر رسمی مشق کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے الجھے اور تھکے ہوئے دماغ کو آرام پہنچایا جاسکتا ہے۔فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا روزمرہ کے کام کاج کی انجام دہی کے دوران کیا ذہنی دباو¿ اور پریشانی کا علاج کیا جاسکتا ہے؟تحقیق کے نتیجے سے ثابت ہوا کہ ایسا بالکل ممکن ہے، جیسا کہ محققین نے برتن دھونے کو ‘مائنڈ فل نیس’ یا ایک قسم کے مراقبے کی مشق کے ساتھ منسلک کیا ہے، جو موجودہ لمحے کی سوچ اور خیالات پر توجہ مرکوز رکھنے کی ایک مشق ہے یا اپنی سوچوں سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔امریکی محققین کے مطابق یہ خیال مکمل طور پر نیا نہیں ہے، جیسا کہ ایک گذشتہ مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ گھریلو کام کاج اور خاص طور پر برتن دھونا آرام کے لیے ایک اچھا موقع ہو سکتا ہے۔سائنسی جریدے ‘جرنل مائنڈ فل نیس ‘میں محققین نے لکھا کہ جن لوگوں نے برتن دھونے سے پہلے مائنڈ فل نیس کی تکنیک حاصل کی تھی، ان میں ذہنی بیداری زیادہ تھی اور اس کام کے لیے ان میں منفی اثرات کم تھے،جس کی وجہ سے انھوں نے برتن دھونے میں کم وقت لگایا تھا۔اس مقصد کے لیے کی گئی ایک تحقیق کے لیے ماہرین نے 51 شرکاءکو بھرتی کیا،جنھیں دو گروپ میں تقسیم کیا گیا اور برتن دھونے سے قبل اور بعد میں شرکاءکی شخصیت کے مثبت اور منفی پہلو اور نفسیاتی کیفیت کا تعین کیا گیا۔نصف شرکاء سے تحقیق کاروں نے کہا کہ وہ برتن دھونے سے پہلے مائنڈفل نیس کے بارے میں ایک پیراگراف کا مطالعہ کریں اور انھیں برتن دھونے کا احساس کرنے کے لیے کہا گیا یعنی ان سے کہا گیا صابن کی بو، پانی کی گرمی اور برتنوں کو تھمانے کے احساس کا تصور اور اس کے بعد انھیں 18 صاف برتن دھونے کے لیے دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کے شرکاءکو براہ راست برتن دھونے کے لیے بھیج دیا گیا۔جن شرکاءنے مراقبے کے بارے میں ہدایات حاصل کی تھیں، انھوں نے اپنی گھبراہٹ پر 27 فیصد قابو پالیا تھا اور ان کی ذہنی بیداری میں 25 فیصد اضافہ ہوا، دوسری طرف جس گروپ نے بغیر ہدایات کے برتن دھوئے تھے، ان کی ذہنی سطح میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوا۔محققین نے اخذ کیا کہ روزمرہ کی جانے والی مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوکر مائن مائنڈ فل نیس اور اس کے مثبت اثرات کو پیدا کیا جاسکتا ہے۔مائنڈ فل نیس یا ایک قسم کے مراقبے کی مشق کو مجموعی صحت اور ذہنی بہبود کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی اس تکنیک کو ذہن کی صفائی اور دباو¿ سے نجات کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک 2003 کے مطالعے میں ایسے شواہد ملے تھے جن سے پتا چلتا ہے کہ مراقبہ ذہنی تناو¿ کو کم کرنے میں اہم ہے۔تحقیق کے سربراہ ماہر نفسیات ڈاکٹر ایرک سیگمین نے کہا کہ برتن دھونے کی مشقت کا احساس دراصل ایک سادہ سے کام کو مکمل کر کے حاصل ہونے والی کامیابی کے احساس کے ساتھ مل کر ہمیں اچھا احساس دلاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ برتن دھونے کے کام کو روایتی طور پر اکتا دینے والا اور مشقت کا کام سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ ایک مصروف دن کے اختتام پر ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے ایک موثر طریقے کے طور پر کام کرسکتا ہے۔
گھریلو کام سے تھکے ہوئے دماغ کو آرام پہنچایا جاسکتا ہے،تحقیق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
ویکیوم کلینر کے ذریعے بیوی کا افیئر پکڑنے والا شوہر، خود بھی عجیب مشکل میں پھنس گیا
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی
-
لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی
-
کراچی، ڈیلیوری آپریشن کے بعد ڈاکٹرز کا خاتون کے حمل سے انکار، اہل خانہ کا ہنگامہ، تحقیقات شروع
-
سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
-
راولپنڈی،قریبی عزیز کا خاتون کو ٹک ٹاک لائیو پر کام کے لیے سرگودھا سے بلاکر جتماعی زیادتی
-
پب جی موبائل کے کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد چل بسے، گیمنگ کمیونٹی سوگوار
-
رکشہ ڈرائیور نے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا ء کرکے زیادتی کا نشانہ بناڈالا



















































