جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آپ کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دبائو ہے تو اس کو بھی ثابت کریں،چیف جسٹس کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

datetime 13  جنوری‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمہ کیا ہے کہ آپ کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دبا ئوہے تو اس کو بھی ثابت کریں، اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دبائو ڈالے گی؟۔سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ صرف سوشل میڈیا یا میڈیا پر الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرنا کافی نہیں، آپ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دبا ہے تو اس کو بھی ثابت کریں، اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دبائو ڈالے گی؟ ۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ عدالت آئینی اداروں کو کنٹرول تو نہیں کرسکتی، آپ جب بدنیتی کا الزام لگاتے ہیں تو بتائیں کہ بدنیتی کہاں ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران شوکاز نوٹس کیے گئے، کیا آپ کی حکومت میں الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ تھا جو اب کسی کے ماتحت ہوگیا؟ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اس وقت نوٹس کیا جب وہ حکومت میں تھی، الیکشن ایکٹ کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کرینگے کیونکہ کسی نے چیلنج نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کو چیلنج نہیں کیا گیا اس لیے ایکٹ پر کوئی بات نہیں کریں گے، اس پر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کررہے۔اس دوران جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اپنے جاری کردہ شیڈول کو فالو کیا تھا؟ کیا انتخابات شفاف تھے؟ کچھ واضح تھا کہ کون الیکشن لڑسکتا ہے کون نہیں؟ آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں، اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی، الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی شکایات ملنے پر کارروائی کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…