جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

فلسطینی خاتون کی 70 سال بعد بھائی سے مدینہ میں ملاقات

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |
A Muslim Pilgrim prays outside the Grand Mosque in the holy city of Mecca, Saudi Arabia, Sunday, Sept. 20, 2015. Roughly 3 million people from around the world are expected to converge at the Kaaba, in Mina and other nearby areas for the hajj, which lasts about five days. All able-bodied Muslims are required to perform once in their lives. (AP Photo/Mosa'ab Elshamy)

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک ضعیف العمر فلسطینی خاتون کی مدینہ منورہ میں ستر سال کے بعد اپنے بھائی اور اس کے بیوی بچوں سے ملاقات ہوئی ہے جس پر وہ بہت شاداں وفرحاں ہیں۔فلسطینی خاتون فاطمہ آل حرد نے بتایا ہے کہ ”میں ستر سال قبل اپنے بھائی سے جدا ہوگئی تھی۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں دوبارہ اپنے بھائی کو دیکھ سکوں گی۔میں نے ہمیشہ اللہ پر اعتماد کیا اور اپنے دل میں امید کا دامن نہیں چھوڑا۔مجھے یہ قوی امید تھی کہ ایک روز ضرور میں اپنے بھائی سے مل پاو¿ں گی اور میری اس کی بیوی اور بچوں سے بھی پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی ہے”۔اس خاتون نے اپنے بھائی،بھابی اور بھتیجے،بھتیجیوں سے اپنی اس طرح ملاقات پر بے پایاں خوشی کا اظہار کیا ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کیا ہے۔دوسرے فلسطینی حجاج کرام بھی ان دونوں بچھڑے ہوئے بہن بھائیوں کے باہم ملنے بہت خوش تھے۔انھوں نے مکہ مکرمہ میں بہ خیروخوبی تمام مناسک حج انجام پذیر ہونے پر بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ایک فلسطینی حاجی سامی آل حسنی کا کہنا تھا کہ ”ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ اس سال حج کے دوران پیش آئے تمام حادثات میں محفوظ رہے ہیں۔حج کے لیے مکہ مکرمہ آنا ہمارے لیے کوئی آسان نہیں تھا”۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے انجمن ہلال احمر کے عملے اور سعودی پولیس افسروں کے جاں فشانی ،لگن اور تن دہی سے فرائض کی انجام دہی کو ملاحظہ کیا ہے اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔”سعودی عرب کی وزارت حج نے حجاج کرام کی خدمات بجا لانے میں زبردست کوششیں کی ہیں اور کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔میں اپنے خاندان کے ساتھ حج کرنے کے لیے آیا تھا۔یہ مقدس سفر موجودہ اور سابقہ خادم الحرمین الشریفین کی کوششوں اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا”۔

مزید پڑھئے:پاکستان کا پلوٹونیم بم

ان کا کہنا تھا۔سامی آل حسنی نے مزید کہا کہ ”ہمیں وزارت حج کی جانب سے قرآن مجید کے نسخے تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں۔ہم اس تحفے کو فلسطین میں اپنے اقارب کو دیں گے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو آزادانہ طور پر حج کے لیے مکہ مکرمہ آنے کی توفیق بخشیں”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…