پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

فلسطینی خاتون کی 70 سال بعد بھائی سے مدینہ میں ملاقات

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |
A Muslim Pilgrim prays outside the Grand Mosque in the holy city of Mecca, Saudi Arabia, Sunday, Sept. 20, 2015. Roughly 3 million people from around the world are expected to converge at the Kaaba, in Mina and other nearby areas for the hajj, which lasts about five days. All able-bodied Muslims are required to perform once in their lives. (AP Photo/Mosa'ab Elshamy)

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک ضعیف العمر فلسطینی خاتون کی مدینہ منورہ میں ستر سال کے بعد اپنے بھائی اور اس کے بیوی بچوں سے ملاقات ہوئی ہے جس پر وہ بہت شاداں وفرحاں ہیں۔فلسطینی خاتون فاطمہ آل حرد نے بتایا ہے کہ ”میں ستر سال قبل اپنے بھائی سے جدا ہوگئی تھی۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں دوبارہ اپنے بھائی کو دیکھ سکوں گی۔میں نے ہمیشہ اللہ پر اعتماد کیا اور اپنے دل میں امید کا دامن نہیں چھوڑا۔مجھے یہ قوی امید تھی کہ ایک روز ضرور میں اپنے بھائی سے مل پاو¿ں گی اور میری اس کی بیوی اور بچوں سے بھی پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی ہے”۔اس خاتون نے اپنے بھائی،بھابی اور بھتیجے،بھتیجیوں سے اپنی اس طرح ملاقات پر بے پایاں خوشی کا اظہار کیا ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کیا ہے۔دوسرے فلسطینی حجاج کرام بھی ان دونوں بچھڑے ہوئے بہن بھائیوں کے باہم ملنے بہت خوش تھے۔انھوں نے مکہ مکرمہ میں بہ خیروخوبی تمام مناسک حج انجام پذیر ہونے پر بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ایک فلسطینی حاجی سامی آل حسنی کا کہنا تھا کہ ”ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ اس سال حج کے دوران پیش آئے تمام حادثات میں محفوظ رہے ہیں۔حج کے لیے مکہ مکرمہ آنا ہمارے لیے کوئی آسان نہیں تھا”۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے انجمن ہلال احمر کے عملے اور سعودی پولیس افسروں کے جاں فشانی ،لگن اور تن دہی سے فرائض کی انجام دہی کو ملاحظہ کیا ہے اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔”سعودی عرب کی وزارت حج نے حجاج کرام کی خدمات بجا لانے میں زبردست کوششیں کی ہیں اور کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔میں اپنے خاندان کے ساتھ حج کرنے کے لیے آیا تھا۔یہ مقدس سفر موجودہ اور سابقہ خادم الحرمین الشریفین کی کوششوں اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا”۔

مزید پڑھئے:پاکستان کا پلوٹونیم بم

ان کا کہنا تھا۔سامی آل حسنی نے مزید کہا کہ ”ہمیں وزارت حج کی جانب سے قرآن مجید کے نسخے تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں۔ہم اس تحفے کو فلسطین میں اپنے اقارب کو دیں گے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو آزادانہ طور پر حج کے لیے مکہ مکرمہ آنے کی توفیق بخشیں”۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…