منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

جلد پر دھبے کینسر کی علامت بھی ہو سکتے ہیں

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) جرمنی کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ جلد پر پیدا ہونے والے چھوٹے دھبوں، کیل اور ابھاروں کا خیال رکھا جائے تو جلد کے کینسر سے بچا جا سکتا ہے۔ مثبت طبی مشوروں کے مطابق جلد پر پیدا ہونے والی کسی بھی ایسی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کر کے کینسر کا ٹیسٹ کر لیا جائے، تو ایسی صورت میں کینسر کی ابتدائی مرحلے پر تشخیص اور ایک چھوٹے سے آپریشن کے ذریعے خاتمہ بھی ممکن ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اگر جلد کے کینسر کو ابتدا ہی میں تشخیص کر کے خاتمہ نہ کیا جائے، تو یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ برلن میں واقع انسٹیوٹ فار کوالٹی اینڈ ایفیشنسی ان ہیلتھ کیئر کی اس تحقیق کو اس سے قبل کی جانے والی متعدد تحقیقاتی رپورٹوں کی سند بھی حاصل ہے۔ جرمن ادارے کی ویب پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جلد میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جا کر جانچنا کوئی فضول کام نہیں بلکہ انتہائی معقول طریقہ ہے۔اس ادارے کا کہنا ہے کہ جلد میں پیدا ہونے والی غیرمتوقع اور عجیب تبدیلی، کینسر کی کئی اقسام سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جلد میں جس جگہ پر سورج سب سے زیادہ پڑتا ہے، وہاں باسل سیل کارسینوما پیدا ہو جاتا ہے، اسی لیے چہرہ یا گردن ایسے دھبوں یا ابھاروں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کینسر کا باعث ایک اور خلیہ اسکواموس کانوں کے سرے یا چہرے پر پیدا ہوتا ہے اور جہاں یہ موجود ہو، وہاں جلد کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔ محققین کے مطابق ان دونوں خلیات کی پیدائش کو انتہائی سنجیدہ لیا جانا چاہیے اور فوراً کسی جلد کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ صاف یا گوری جلد کے حامل افراد اس طرح کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں جب کہ عمر کے ساتھ ساتھ جلد کے سرطان کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سکاموس سیل کارسینوما عموماً ساٹھ یا اس سے زائد عمر کے افراد میں دیکھا گیا ہے جب کہ باسل سیل کارسینوما چالیس اور پچاس برس کی عمر میں زیادہ پیدا ہو سکتا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…