ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

جرمنی میں زہریلی کھمبیاں کھانے سے درجنوں پناہ گزین بیمار

datetime 1  اکتوبر‬‮  2015 |

برلن (نیوز ڈیسک)جرمنی میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں درجنوں پناہ گزین زہریلی کھمبیاں کھانے کے باعث بیمار ہوگئے ہیں۔ایسے ہی ایک واقعے میں ایک 16 سالہ شامی نوجوان زہریلی کھمبی کھانے کے بعد ہلاک ہوگیا۔زہریلی کھمباں کھانے سے بیمار ہونے کے اطلاعات کے بعد جرمنی میں پناہ گزینوں کے کیپموں میں اس کے خطرات سے متعلق آگہی کے پوسٹر تقسیم کیے گئے ہیں۔’ڈیتھ کیپ‘ کے نام سے جانے جانے والی زہریلی کھمبی کھانے سے 16 سالہ شامی نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھمبی کھانے کے بعد اس کی علامات اتنی شدید تھیں کہ اس کے جگر کی پیوندکاری ناگزیر ہوگئی تھی تاہم بروقت متبادل جگر دستیاب نہ ہوسکا،ماہر علم سمیات کا کہنا ہے کہ جرمنی میں یہ کھمبیوں کی زہریلی ترین قسم ہے۔ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ متعدد افراد نے امنیٹا فلوئڈز نامی زہریلی کھمبیوں کو کھانے کے قابل کھمبی کی قسم سمجھ لیا تھا جس کا شام میں عام استعمال کیا جاتا ہے۔جرمن مائیکولوجیکل سوسائٹی کے ماہر پروفیسر سیگمر برنڈٹ نے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا کہ ’میں نے اپنی 70 سالہ زندگی میں اتنی زہریلی کھمبیاں نہیں دیکھی جتنی اس سال ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ زہریلی کھمبیوں کا شکار بننے والے بیشتر افراد پناہ گزین اور پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد ہیں، ان میں زیادہ تر کا تعلق شام سے ہے۔اطلاعات ہیں کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں کے قریب جنگلوں میں یہ کھمبیاں اکٹھی کی گئی، پناہ گزینوں کے خیال میں یہ کھمبیاں ان کے آبائی علاقے میں پائی جانے والی کھمبیوں جیسی ہی تھیں۔’ڈیتھ کیپ‘ کے نام سے جانے جانے والی ایسی ہی زہریلی کھمبی کھانے سے 16 سالہ شامی نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھمبی کھانے کے بعد اس کی علامات اتنی شدید تھیں کہ اس کے جگر کی پیوندکاری ناگزیر ہوگئی تھی تاہم بروقت متبادل جگر دستیاب نہ ہو سکا۔اب جرمنی میں کھمبیوں کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین پناگزینوں میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس ضمن میں انھوں نے ملک بھر میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپوں میں پوسٹرز تقسیم کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…