بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 35 ارکان عدالتی حکم امتناع پر ایوان میں بیٹھے ہیں

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) منگل کو نئے اضافے کے ساتھ مختلف اہم سیاسی جماعتوں کے 35 قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان حکم امتناع یا عدالتی مقدمہ بازی کے باعث پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، سپریم کورٹ کی جانب سے این اے۔154 لودھراں کے 11 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن کو روکنے اور صدیق بلوچ کی ر±کنیت بحال کرنے کے حکم امتناع پر تحریک انصاف نے فوراً ن لیگ پر تنقید اور طنز کرنا شروع کر دیا مگر خود اس کے کئی ارکان ایسے ہی عدالتی حکم کی بناءپر ایوان میں بیٹھے ہیں۔جنگ رپوٹر طارق بٹ کے مطابق الیکشن ٹریبونلز سے نااہلی کے بعد اعلیٰ عدالت سے ریلیف لینے والوں میں قومی اسمبلی کے 15 ارکان، پنجاب و سندھ اسمبلی کے آٹھ آٹھ ارکان، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 7 اور بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن شامل ہیں، الیکشن کمیشن پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ان ارکان پارلیمنٹ کا تعلق پی ٹی آئی، پی پی پی، پی ایم ایل (این) اور جے یو آئی سے ہے، آزاد ارکان بھی ان میں شامل ہیں، جن ارکان اسمبلی کے مقدمے اعلیٰ عدالتوں میں فیصلے کے منتظر ہیں وہ این اے 15، کرک، این اے 46 قبائلی علاقہ، این اے 39 قبائلی علاقہ، این اے 66 سرگودھا، این اے 176 مظفرگڑھ، این اے 47 قبائلی علاقہ، این اے 267 کوچی، جھل مگسی، این اے 211 نوشہرو فیروز، این اے 261 پشین کم زیارت، این اے 125 لاہور اور این اے 215 خیرپور سے 2013ءکے انتخابات میں منتخب ہوئے تھے، ان کے علاوہ این اے 53 راولپنڈی سے منتخب تحریک انصاف کے غلام سرور خان کا کیس بھی عدالت میں زیرالتواءہے، وہ بھی عدالتی حکم کی بناء پر ہی اسمبلی میں براجمان ہیں، ان کے خلاف مقدمہ ان کی جعلی ڈگری کے حوالے سے ہے، پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی مراد سعید کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے، لیکن انہیں اپنی پشاو ریونیورسٹی کی ڈگری پر سنگین سوالات کا سامنا ہے، یونیورسٹی نے پشاور ہائیکورٹ کو بتایا تھا کہ مراد سعید کی مارکس شیٹ پر جامعہ کی سرکاری مہر نہیں ہے، پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کی پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر التواءہے، انہوں نے این اے 110 سے وزیر دفاع خواجہ آصف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا ، الیکشن ٹریبونل نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی اور قرار دیا تھا کہ عثمان ڈار اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے، علاوہ ازیں این اے 108 منڈی بہاءالدین سے منتخب ہونے والے آزاد ا±میدوار اعجاز چوہدری کو بھی الیکشن ٹریبونل نے نااہل قرار دیا تھا، وہ منتخب ہونے کے بعد پہلے ن لیگ میں شامل ہوئے لیکن بعدازاں تحریک انصاف میں شمولیت اختیارکرلی تھی، سپریم کورٹ نے ان کی نااہلی کو برقرار رکھا تھا، اس نشست پر ضمنی انتخاب چند ماہ قبل ہی ہوا جس میں ن لیگ کے ممتاز تارڑ جیت گئے تھے، الیکشن ٹریبونل کے حکم پر این اے 19 ہری پور سے منتخب راجہ عامر زمان کے حلقے میں چھ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ ہوئی جس میں 2013ءمیں ہارنے والے ن لیگ کے عمر ایوب خان جیت گئے، بعدازاں اعلیٰ عدلیہ نے نئے انتخاب کا حکم دیا جو مسلم لیگ ن نے حال ہی میں جیتا ہے، جب لاہور کے الیکشن ٹریبونل نے اسپیکر ایاز صادق کو نشست سے محروم کیا تو انہیں فیصلے کو تسلیم کرکے اعلیٰ عدالیہ میں اپیل نہ کرنے کیلئے کہا گیا، انہوں نے ایسا ہی کیا اور اب وہ این اے 122 لاہور سے ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، قومی و صوبائی اسمبلی کے کسی ر±کن نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا کہ ٹریبونل کے فیصلے کو تسلیم کیا ہو اور اپیل نہ کی ہو، ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ارکان اسمبلی نے حکم امتناع پر اپنی مدت پوری کرلی، عدالت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی سپریم کورٹ کے حکم پر چل رہے ہیں، الیکشن ٹریبونل نے انہیں انتخابی عملے کی بے ضابطگیوں پر نشست سے محروم کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…