جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ میں آدھے سے زیادہ لوگ پیسے دے کر آئے ہیں، شاہد خاقان عباسی

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماء وسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہونیوالے اقتدار کے متلاشی ہوتے ہیں، آدھے سے زیادہ لوگ جو سینیٹ میں بیٹھے ہیں وہ پیسے دے کر آئے ہیں۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب بھی ملک کے اندر غیر آئینی عمل آتا ہے تو وہی لوگ اسٹیبلشمنٹ کو بار بار ملتے ہیں یا ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو اقتدار کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

اشاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سابق صدور جنرل (ر) ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور سے دیکھ لیں ، ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا، ضیاء الحق کے زمانے میں بھی ایسا ہوا، اس کے بعد پرویز مشرف کے دور میں بھی یہی سب کچھ ہوا۔سابق وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ 2018کے الیکشن کے بعد کیا ہوا؟ کیا کوئی قابل آدمی سامنے لایا گیا؟، یا اس کو پنپنے کا موقع دیا گیا؟۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر کوئی افسر لیفٹیننٹ سے جنرل تک پہنچتا ہے تو اس کو موقع دیا جاتا ہے، اس کی تربیت ہوتی ہے، اس کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے عہدے تک پہنچتا ہے جبکہ سیاسی ایوانوں میں ایسا نہیں ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ یہاں ایک آدمی کو 70کروڑ لے کر سینیٹر بناتے ہیں، سینیٹ کا الیکشن بھی چوری ہوجاتا ہے، چیئرمین سینیٹ بھی بن جاتا ہے اور بعد میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سیاستدان ٹھیک نہیں ہیں، یہ بڑے چور ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کونسی سیاست ہے ،یہ تجربے ناکام ہوچکے ہیں اس لئے ان کو اب ختم کریں، ہم سب جانتے ہیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے، ہر آدمی جانتا ہے لیکن ہم چپ بیٹھے ہیں، آج سیاست پیسے سے ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…