منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

حکومت، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے خلاف کارروائی ’’حرام‘‘ ہے،علما کا فتویٰ

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام نے متفقہ رائے دیتے ہوئے دہشت گردوں کو دینِ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں اتحاد، رواداری اور ہم آہنگی کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا جس کے مطابق پیغامِ پاکستان، قرآنِ پاک کے احکامات اور سنتِ رسول ۖ آئین پاکستان کے مطابق متفقہ دستاویز ہیں، یہ دستاویز ریاستی اداروں، یونیورسٹیز اور تمام مکاتبِ فکر کے تعاون سے تیار کی گئی ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ پیغامِ پاکستان پر 1800 علمائے دین نے دستخط کیے ہیں، حکومت، فوج، سیکیورٹی اداروں کو غیر مسلم قرار دینا اسلام کی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ضابطہ اخلاق میں کہا گیا کہ حکومت، فوج، سیکیورٹی اداروں کے خلاف کارروائی کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے، یہ فعل بغاوت کے مترادف اور اسلامی احکام و شریعت کے مطابق ‘حرام’ ہے، تمام علمائے کرام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ قوم افواجِ پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کا اعلان کرتی ہے، علمائے کرام نے خودکش بمباری کو شریعت کی روشنی میں حرام قرار دیا ہے۔

علمائے کرام نے ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کریں، تمام تعلیمی اداروں کا مشن طلباء کی تعلیم اور تربیت ہے، اگر کوئی ادارہ عسکریت پسندی، نفرت، انتہا پسندی اور تشدد میں ملوث ہو تو ریاست کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ضابطہ اخلاق کے مطابق ہر مسلک اور مکتبہ فکر کو تبلیغ کی آزادی حاصل ہے، کسی فرد، مسلک یا ادارے کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی ممانعت ہے، کوئی عالمِ دین کسی کو غیر مومن قرار نہیں دے گا، یہ عدالت کا دائرہ اختیار ہے، پاکستان کی سر زمین دہشت گردی کے فروغ، تربیتی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، پاکستان کی سر زمین دنیا کے دیگر ممالک میں کسی مذموم کارروائی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

علماء کے مطابق انسانی اقدار اور اسلامی اخوت پر مبنی اسلامی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، اقلیتی برادریوں کو بھی مسلمانوں کی طرح حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں کو اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق عبادت کی آزادی حاصل ہے، لاؤڈ اسپیکر، ٹی وی چینلز وغیرہ پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…