جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ کا آلودگی پھیلانے والی فیکٹریاں سیل کرنے کا حکم

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان کے مالکان بیان حلفی نہیں دیں گے انہیں ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کیلئے شہری ہارون فاروق کی درخواست پر سماعت کی ۔

دوران سماعت کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا سمیت دیگر افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ جو فیکٹریاں کالا دھواں چھوڑ رہی ہیں انہیں سیل کیا جائے اور جب تک ان کے مالکان بیان حلفی نہیں دیں گے انہیں ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ بیان حلفی دیں کہ دوبارہ خلاف ورزی ہوئی تو فیکٹری کو گرا دیا جائے گا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ یہ دو ماہ بہت اہم ہیں، لگتا ہے اب ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں، پی ڈی ایم اے تو سویا ہوا ہے، ہم ان کو جگاتے ہیں، اگر کوئی گاڑی اسموگ کا باعث بن رہی ہے تو اس کی تصویریں بنائیں ، اگلے سال سے ہمیں شروع میں ہی بڑے اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔

کمشنر لاہور نے بتایا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں گے ، ہم نے ٹریفک پولیس کو بھی ہدایت کی ہے کہ اسموگ پھیلانے والی گاڑیوں کو بند کیا جائے۔محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ ہم نے سائیکلنگ کے رجحان کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں، ہم نے ٹیپا سے بات کی ہے کہ سائیکلنگ کے لیے ایک ٹریک بنایا جائے، ہم کوشش کریں گے کہ سائیکلنگ والے افراد کو ہوٹلوں پر چیزیں ڈسکائونٹ سے ملیں۔عدالت نے ہدایت دی کہ آپ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس میں شامل کریں، ہم ان پانچ ، چھ ماہ میں سائیکلنگ کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔کمشنر لاہور نے کہا کہ ہم اب اخبار میں اشتہار دیں گے کہ درخت کاٹنا ایک جرم ہے۔بعدازاں ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…