پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث ایک ہزار روپے کی قدر صرف 660 رہ گئی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)امریکی ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث ایک سال کے دوران ایک ہزار روپے کی قدر صرف 660رہ گئی۔تفصیلات کے مطابق آمدن کم اور اخراجات زیادہ، تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کی جنگ میں ہار گیا۔ گزشتہ ایک سال میں عوام کی قوت خرید میں 34 فیصد تک کمی آئی۔ ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث ایک ہزار روپے کی قدر صرف 660 رہ گئی۔منہ زور مہنگائی نے ایسا رگڑا لگایا کہ غریب تو کیا متوسط طبقہ بھی پس گیا، سفید پوشی کا بھرم ٹوٹا اور ایک سال میں مزید سوا کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے چلے گئے۔

اس وقت تقریبا 40 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔ایک سال میں ڈالر 82 روپے مہنگا ہوا جبکہ پاکستان میں فی کس آمدن میں 198 ڈالر کی کمی ہوگئی۔ مہنگائی نے 34 فیصد کی بلند سطح تک پہنچ کر جلتی پر تیل کا کام کیا، عوام کیلئے صحت،خوراک اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہ رہا۔ معاشی ماہرین کے مطابق اب ایک نوکری سے کام نہیں چلے گا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بتایا کہ یکم نومبر سے گیس کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہوگا۔

تو لوگوں کی جو آمدنی ہے وہ اخراجات سے مطابقت نہیں رکھ پائے گی اور مجبورا انہیں ایک سے زیادہ ملازمت جو ہے وہ کرنا پڑ رہی ہوگی۔اقتصادی ماہرین نے عوام کے معاشی تحفظ کیلئے فی کس آمدن میں اضافہ ناگزیر قرار دے دیا کہاکہ مسائل کی دلدل سے نکلنے کا واحد حل سالانہ 5 سے 7 فیصد پائیدار معاشی ترقی ہے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ آپ اگر جائزہ لیں 2000 سے لے کر 2022 تک تو آپ کو اندازہ ہوگا۔ پاکستان کا رئیل ایوریج فی کس گروتھ ریٹ 1.7 فیصد پر تھا، پاکستان کو پائیدار راستے پر ڈالنے کیلئے مہنگائی کو لو سنگل ڈیجیٹ پر رکھنے کیلئے پاکستان کی گروتھ کو مستقل طور پر ایک دہائی میں سات فیصد سے اوپر لے جانے کیلئے ہمیں یقینا سب سے پہلے اپنا فیڈرل مالیاتی فریم ورک ٹھیک کرنا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ مضبوط معیشت اور سیاسی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ مستقل اقتصادی پالیسیوں کے تسلسل کیلئے مضبوط جمہوری حکومت ناگزیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…