جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایک دن باقی،غیر قانونی مقیم افغانیوں نے اپنی جائیدادیں فروخت کر کے واپسی کا عمل تیز کر دیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2023 |

گوجرخان(این این آئی)غیر قانونی مقیم افراد کو 31اکتوبر تک پاکستان چھوڑنے کے حکومتی اعلان کے بعد دیگر شہروں کی طرح تحصیل گوجرخان اور بالخصوص شہر میں غیر قانونی مقیم افغانیوں نیاپنی جائیدادیں فروخت اور دیگر کاروباری معاملات کو سمیٹ کر واپسی کا عمل تیز کر دیا ،پچھلے دو دنوں سے اس وقت تک متعدد افغان خاندان گوجرخان شہر سے واپس افغانستان جانے کے لئے باڈر کی طرف جا چکے ہیں۔

زرائع کے مطابق بڑی تعداد غیر قانونی افغانی خاندان جنہوں نے اپنا چلتا کاروبار، پلاٹ، مکان، دکانیں وغیرہ بیچنا ہے ،31اکتوبر تک اپنے مالی معملات نمٹانے یا اپنے سہولت کاروں و ہم خیال افراد کے حوالے کر کے افغانستان واپس چلے جائیں گے تاکہ پاکستانی حکومت کیجانب سے مزید مہلت نہ ملنے کے باعث جو مالی وکاروباری معاملات حل نہیں ہو سکے وہ دوبارہ ویزا لے کر ادھورے چھوڑے ہوئے معاملات کو حل کر لیں گے جبکہ کچھ اپنا سامان بیچ کر اپنے ملک واپس جا رہے ہیں ،یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بازاروں میں کئی ایسی جگہیں ہیں جن کا کرایہ گورنمنٹ کے مقامی ادارے لے رہے ہیں اور کرایہ دار ایسے افراد ہیں جن کے حوالہ سے مبینہ اطلاعات ہیں کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد ہیں ،

اب وہ ان کاروباری جگہوں کو فروخت کر رہے ہیں جو قانونی طور پر جائز نہیں ایسے اقدام کی روک تھام کی جائے ،معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن تک انتظار کریں گے کیونکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کو 31اکتوبر تک پاکستان چھوڑنا ہوگا ورنہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی گرفتاری اور ملک بدری کو یقینی بنائیں گے محب وطن حلقوں نے 31اکتوبر کے بعد کوئی بھی غیر ملکی بغیر ویزہ اور پاسپورٹ کے ملک میں داخل نہیں ہو گا کہ اس حکومتی اعلان کو ملک وقوم کے لئے بہترین فیصلہ قرار دیا ہے کیونکہ اس اقدام سے پاکستان کی معیشت امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…