جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کام کرنے والی 3 بڑی کار کمپنیوں کے مینو فیکچرنگ لائسنس معطل

datetime 26  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں کام کرنے والی تین بڑی کار کمپنیوں کے مینو فیکچرنگ لائسنس معطل کردیے گئے۔نگراں وفاقی حکومت نے کار مینو فیکچررز کے خلاف بڑا ایکشن لیا ہے جبکہ وزارت صنعت و پیداوار نے 3 بڑی کار کمپنیوں کے لائسنس معطل کردیے۔ذرائع کے مطابق کار مینوفیکچررز نے آٹو پالیسی کی خلاف ورزی کی، گاڑیوں کی ایکسپورٹ کے اہداف حاصل نہیں کیے، کار مینوفیکچررز کے خلاف لوکلائزیشن سے متعلق شرائط پوری نہ کرنے پرکارروائی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق تینوں کار ساز کمپنیاں گاڑیوں کی مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے میں ناکام رہیں، یہ کمپنیاں کئی سالوں سے 2 فیصد ایکسپورٹ کرنے میں ناکام رہیں۔اس بنا پر وزارت صنعت وپیداوار نے 3 بڑی کار کمپنیوں کے مینیو فیکچرنگ لائسنس معطل کر دیے۔وزارت صنعت وپیداوار کے مطابق کار ساز کمپنیاں گاڑیوں کے آلات و اسپیئر پارٹس مقامی سطح پر تیار کرنے کی پابند ہیں، ان کمپنیوں پر لازم ہے کہ اپنی پراڈکٹ کا 2 فیصد ایکسپورٹ بھی کریں۔ذرائع کے مطابق تینوں کار ساز کمپنیوں کے لائسنس 30 ستمبر سے معطل ہیں، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نے ایک ماہ سے کار مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لائسنس بحال نہیں کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…