جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں رات ہوتے ہی لٹیرے سڑکوں پر اور پولیس غائب

datetime 22  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رات ہوتے ہی لٹیروں کا سڑکوں پر راج ہوتا ہے جب کہ شہریوں کی محافظ پولیس غائب ہوتی ہے۔سروے کے مطابق کراچی میں رات ہوتے ہی شہریوں کی محافظ پولیس غائب ہو جاتی ہے جب کہ سڑکوں پر لٹیروں کا راج قائم ہو جاتا ہے جو منٹوں میں شہریوں کو ان کی زندگی بھر کی کمائی سے محروم کر دیتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ گزشتہ شب گارڈن کے علاقے نشتر روڈ آئل والی گلی میں پیش آیا جہاں ملزمان نے بے خوف ہو کر وارداتیں کیں جس کے بعد متاثرین کا گارڈن تھانے میں رش لگ گیا۔لٹیروں نے ایک شہری کو چند سیکنڈ میں 3 لاکھ روپے مالیت کے سامان سے محروم کر دیا اور جب متاثرہ شہری اپنی شکایت لے کر تھانے پہنچا تو پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے اس کو سادہ پرچی تھما دی۔گارڈن کے علاقے میں ہی ملزمان، نوجوان سے نئی موٹر سائیل، موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہوئے تو اس نے پولیس کی نا اہلی پر سوشل میڈیا پر طنزیہ اسٹیٹس مِس یو کے عنوان سے لگا دیا۔

متاثرہ نوجوان نے کہاکہ موٹر سائیکل سوار دو ملزمان نے بزور اسلحہ اسے یرغمال بنایا اس کی نئی موٹر سائیکل اور دو موبائل فون چھین لیے۔وارداتوں کے ایک عینی شاہد نے بتایاکہ ملزمان نے دو شہریوں کو بھی نقدی اور قیمتی موبائل فونز سے محروم کیا۔ادھرکراچی پریس کلب کے سابق سیکرٹری اور سینئرصحافی محمدرضوان بھٹی سے موٹرسائیکل پر سواردونوجوان ملزمان نارتھ ناظم آباد سے سیفی اسپتال کے سامنے سے موبائل فون چھین کرفرار ہوگئے۔رضوان بھٹی کے مطابق واردات سیفی اسپتال کے گارڈ کے سامنے ہوئی تاہم گارڈ مددکو نہیں آیا ملزمان آسانی سے فرارہونے میں کامیاب ہوگئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…