جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دو روز میں مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک گیر پہیہ جام ہوگا، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ

datetime 20  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے دو روز میں مطالبات منظور نہ کرنے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل سیکریٹری اویس چوہدری نے کہا کہ پورٹ پر حکومت کے ایکسل لوڈ قانون کا نفاذ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن حکومت قومی شاہراہوں پر بھی ایکسل لوڈ کے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ذریعے ایکسل لوڈ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور قومی شاہراہوں کے متعلقہ سرکاری اسٹیک ہولڈرز اپنے وے اسٹیشز کو آپریشنل کرے جبکہ موٹروے قومی شاہراہوں ہر دندناتی اوورلوڈ گاڑیوں کو روکے۔جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ہم نے اوورلوڈ کے خاتمے کے لیے کاٹھور پر پہلے سے 5 ہزار گاڑیاں احتجاجاً کھڑی کر دی ہیں، بلک کارگو کی ملک بھر میں محدود سطح پر ترسیل بند کی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایکسل لوڈ کے قانون نہ ہونے سے قومی شاہراہیں تباہ اور حادثات رونما ہوتے ہیں، اوور لوڈنگ کی وجہ سے فاضل پرزہ جات کی بیرون ملک سے درآمد کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کا کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔اویس چوہدری نے بتایا کہ ایک سروے کے مطابق ہائی ویز پر زائد لوڈ سے تباہ ہونے والے روڈ اسٹرکچر پر سالانہ 75 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں، 53 ٹن کی گاڑی پر 120 ٹن مال لوڈ کیا جاتا ہے جس کا براہ راست فائدہ مل مالکان کو پہنچ رہا ہے۔جنرل سیکریٹری نے کہاکہ افغانستان جیسے جنگ زدہ ملک میں بھی لوڈ ایکسل قوانین پر مکمل عمل درآمد کروایا جاتا ہے، پاکستان سے ایک گاڑی کے ذریعے افغانستان بارڈر پر پہنچائے جانے والے مال کی آگے ترسیل وہ 3 گاڑیوں کے ذریعے کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…