جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

نجی بینک ملازمین کا اکانٹ ہولڈر سے فراڈ، کروڑوں ڈالر بیرون ملک منتقل کردیے

datetime 12  اکتوبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے نجی بینک ملازمین کی جانب سے رشتہ دار بن کر اکائونٹس سے کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے سے متعلق درخواست پر درخواستگزار کے وکیل کو نجی بینکوں کے جواب کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔جمعرات کوسندھ ہائی کورٹ میں قائم مقام چیف جسٹس جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نجی بینک ملازمین کی جانب سے رشتہ دار بن کر اکائونٹس سے کروڑوں روپے کا فراڈ کرنے سے متعلق فارما سیوٹیکل کمپنی کے 88 سالہ مالک ڈاکٹر سلیم حبیب کی درخواست پر سماعت ہوئی۔درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواستگزار ڈاکٹر سلیم کوویڈ کی وجہ سے کومہ میں چلے گیے تھے۔

بینک فارم سے معلومات لے کر بینک ملازمین نے کروڑوں ڈالر بیرون ملک منتقل کردیئے گئے۔جسٹس عرفان سعادت خان نے ریمارکس دیئے کہ آپ جو کچھ بتارہے ہیں یہ تو بہت سنگین الزامات ہیں۔ بینک تو صارفین کا ڈیٹا محفوظ رکھتے ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ہمیں کوئی فون کال یا ویری فیکیشن کال موصول نہیں ہوئی ہے۔وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف دیا کہ اسٹیٹ بینک خود مختیار ادارہ ہے اپنے طور پر تحقیقات کرا سکتا ہے۔درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اسٹیٹ بینک کو نجی بینکوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی جائے۔ نجی بینکوں کے وکلا نے موقف دیا کہ جو بھی ٹرانزیکشن ہوئی ہے، درخواستگزار کی ہدایت پر ہوا ہے۔عدالت نے درخواستگزار کے وکیل کو نجی بینکوں کے جواب کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواستگزار کے وکیل آئندہ سماعت پر جواب الجواب جمع کرائیں۔ عدالت نے سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…