جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

” چچائوں کی شادی کے بعد ان کو کمرے دینے پڑے تو ایسے حالات آگئے کہ ہمیں کچن میں بھی سونا پڑا ” “، حارث رئوف نے اپنی کہانی سنا دی

datetime 2  اکتوبر‬‮  2023 |

لاہور (این این آئی)قومی کرکٹر حارث رئوف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کرکٹ کھیلنے کی خاطر گھر سے اپنا حلیہ بدل کر دوست کے گھر جایا کرتے تھے اور وہاں سے کپڑے اور جوتے پہن کر ٹیپ بال کرکٹ کھیلنے جاتے تھے۔ایک معروف کرکٹ ویب سائٹ نے پاکستانی اسٹار بولر حارث رئوف پر ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جس میں حارث کا راولپنڈی میں پرانا گھر بھی دکھایا گیا اور وہ گلیاں بھی دکھائی گئیں جس میں کرکٹ کھیل کر حارث بڑے ہوئے۔ڈاکیومنٹری میں حارث رئوف نے اپنی زندگی کی ابتدائی مشکلات پر گفتگو کی، قومی کرکٹر 7 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور ان کے والد ویلڈر تھے جو بمشکل اپنے کام سے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔

حارث رئوف نے بتایا کہ ان کے والد اور چاچا سب ایک ہی چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے، چچائوں کی شادی کے بعد ان کو کمرے دینے پڑے تو ایسے حالات آگئے کہ ہمیں کچن میں بھی سونا پڑا۔انہوں نے بتایا کہ میں اپنی اسکول کی فیس دینے کے لیے ہر اتوار بازار میں نمکو فروخت کرتا تھا، اس سے اسکول کی فیس نکل آتی، بعدازاں یونیورسٹی میں گیا تو ہر 6 ماہ بعد 70 سے80 ہزار چاہیے ہوتے تھے، اس کے لیے میں ٹیپ بال کرکٹ کھیلتا تھا جس کے اچھے پیسے ملتے تھے، مہینے کے 2 سے ڈھائی لاکھ ہوا کرتے تھے جس سے میں فیس نکالتا اور کچھ جمع کرتا، والدہ کا خواب تھا کہ اپنا گھر ہو۔

حارث رئوف نے کہا اب میرے پاس ایک گھر اور گاڑی ہے، جب میں نے گاڑی خریدی تو میرے والد رونے لگے اور کہا کہ ان کی اس گاڑی میں بیٹھنے کی بھی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرا خاندان خوش ہے تو میں خوش ہوں، یہ میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…