بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پسند کی شادی کے بعد علیحدہ ہونیوالے جوڑے کو جھاڑ پلادی

datetime 26  ستمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں دو کم سن بچیوں کی حوالگی کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پسند کی شادی کے بعد علیحدہ ہونے والے جوڑے کو جھاڑ پلا دی۔منگل کو چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے دو کم سن بچیوں کی حوالگی کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران دونوں بچیوں کو ماں کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بچیوں کے والد اتوار کی صبح 10 سے شام 5 بجے تک بچیوں سے ملاقات کر سکیں گے، والد کی جانب سے عدالتی حکم عدولی پر توہینِ عدالت کی کارروائی ہو گی۔درخواست گزار بچیوں کے والد کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بچیاں والد کے پاس ہونی چاہئیں کیونکہ ماں رات کی نوکری کرتی ہے، بچیوں کی ماں کے پاس دیکھ بھال کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وکیل صاحب! اسلام میں حضانت کا اصول آپ نے پڑھا ہے یا نہیں، شریعت کے مطابق بچے ماں کے پاس رہتے ہیں، ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ہمارے کام مسلمانوں والے نہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صرف داڑھی رکھنے سے بندہ مسلمان نہیں ہوتا عمل بھی ہونا چاہیے، نماز، روزہ اور حج کرنا کافی نہیں انسانیت اور اخلاق بھی لازم ہیں، طلاق نہیں ہوئی والدین کی آپس کی ناراضگی بچوں کا مستقبل خراب کر دے گی۔دورانِ سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بچیوں کے والد سے سوال کیا کہ آپ نے پسند کی شادی کی یا ارینج میرج تھی؟جس پر بچیوں کے والد تیمور نے عدالت میں جواب دیا کہ میری پسند کی شادی تھی۔اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ خود محبت کی شادیاں کر لیتے ہیں پھر مسائل عدالت کیلئے بن جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…