بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور ٹیلیفون کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟،آڈیو لیکس کیخلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری

datetime 22  ستمبر‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کی جانب سے آڈیو لیکس کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور ٹیلیفون کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آڈیو لیکس کے خلاف کیس کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور ٹیلیفون کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامے میں معاملے پر وزیرِ اعظم آفس، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع سے دوبارہ رپورٹس طلب کر لیں۔

عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ جواب دیں کس ایجنسی کے پاس شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت ہے، وفاقی حکومت کے کسی ڈویژن نے اپنی رپورٹ میں عدالتی سوالوں کے جوابات نہیں دیے، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے رپورٹ جمع کرانے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں۔تحریری حکم نامے میں جسٹس بابر ستار نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت اور ماتحت ادارے عدالتی سوالوں کے جوابات پر مشتمل نئی رپورٹس جمع کرائیں، دوسری صورت میں عدالت انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ٹیلی کام آپریٹرز سے براہِ راست جواب طلب کرے گی۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بھی اپنی نظرِ ثانی شدہ رپورٹ جمع کرائے، پی ٹی اے بتائے کہ قانونی مقاصد کے لیے فون کالز ریکارڈنگ کا اختیارکس کے پاس ہے؟ بتایا جائے کہ فون کالز ریکارڈنگ کی اجازت کا فریم ورک اور مکینزم کیا ہوتا ہے؟ پی ٹی اے نے ٹیلی کام آپریٹرز کو کالز ریکارڈنگ کی اجازت دینے کے لیے ہدایات جاری کیں؟ عدالت نے تحریری حکم نامے کے ذریعے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے کی ایسی ہدایات اور لائسنس فراہمی کی تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ بنائی جائیں۔حکم نامے کے اجراء کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی آئندہ سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…