بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر 9سال میںمتعددحادثات،کب کیا ہوا۔۔۔!خصوصی رپورٹ

datetime 24  ستمبر‬‮  2015 |

مکہ مکرمہ(نیوزڈیسک)مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر 9سال بعد بڑے حادثات پیش آئے ہیں جن میں سینکڑوں افراد شہید و زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس سے قبل وقفہ وقفہ سے حادثات پیش آتے رہے تھے اور خاص طور پر یہ واقعات منیٰ میں جمرات پر شیطان کو کنکریاں مارنے کے موقع پر ہی ہوئے،1990 میں سے بدترین واقعہ پیش آیا تھا جب جمرات کی رمی کے دوران پل پر 1426 حجاج بحق ہوئے تھے، جاں بحق ہونے والے اکثر حجاج کا تعلق انڈونیشیا ، ملائیشیاءاور پاکستان سے تھا۔ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق حج 2015 کے دوران دو بڑے سانحات میں بڑے پیمانے پر حجاج جاں بحق ہوئے۔پہلے 12 ستمبر کو مکہ میں تعمیراتی کام کے لیے منگوائی گئی کرین گر گئی تھی جس سے 107 حجاج جاں بحق ہوئے۔بعد ازاں عید الاضحی کے روز 24 ستمبر کو جمرات کی رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 220 حجاج جاں بحق اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔رواں برس پیش آنے والے سانحات سے قبل بھی حج کے دوران مختلف سانحات میں حجاج جاں بحق ہوتے رہے ہیں۔سال 2006 میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر بھگدڑ مچنے سے 346 حاجی جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔2004 میں منٰی ہی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 251 حجاج جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔2003 میں بھی جمرات کے مقام پر رمی کے دوران بھگدڑ میں 14 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ 2001 میں 35 حجاج بھگدڑ مچنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔1998 میں جمرات کے پل پر رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی اور 118 حاجیوں کچل کر جان سے گئے تھے جبکہ 180 زخمی ہوئے تھے۔1997 میں منٰی کے میدان میں حاجیوں کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے 347 حجاج جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے۔1994 میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران منیٰ میں بھگدڑ سے 270 حجاج جاں بحق ہوئے تھے۔1990 میں سے بدترین واقعہ پیش آیا تھا جب جمرات کی رمی کے دوران پل پر 1426 حجاج بحق ہوئے تھے، جاں بحق ہونے والے اکثر حجاج کا تعلق انڈونیشیا ، ملائیشیاءاور پاکستان سے تھا۔1975 میں حاجیوں کے خیمے میں ایک گیس سلنڈر پھٹ گیا تھا جس سے آتشزدگی کے باعث 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…