منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

ڈالر 304کی بلند ترین سطح پر پہنچنا تشویشناک،ڈالرکی اونچی اوڑان پر قابو پانا ضروری ہے ‘راجہ وسیم حسن

datetime 17  اگست‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی)صدرلوہا مارکیٹ شہید گنج لاہور راجہ وسیم حسن نے روپے کی قدر میں کمی او راوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں304روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے اور معاشی ہیجانی کیفیت سے نکلنے کیلئے ڈالر کی اونچی اوڑان پر قابو پانا ضروری ہے،ڈالر304روپے پر پہنچنے سے ہوشربا مہنگائی سے ہر طبقہ متاثر ہورہا ہے، ڈالر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ دی ہے ،ڈالر کی اونچی اوڑان میں روپے کی گرتی قدر انتہائی خوفناک ہے ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے بیرونی قرضوں میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوجاتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ راجہ وسیم حسن نے کہا کہ روپے کی گراوٹ ڈالر میںتاریخی اضافہ معیشت کیلئے خطر ناک ہے ،روپے کا زوال کئی سالوں کی ترقی کو ختم کردے گا۔ ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد غیر ملکی قرضوں میں اربوں روپے اضافہ ساتھ ساتھ صنعتی شعبہ میں استعمال ہونے والا درآمدی خام میٹیریل بھی مہنگا ہورہا ہے جس سے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں اضافہ سے اشیاء مہنگی اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کے ساتھ ساتھ بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی سے ملکی برآمدات میں بھی کمی سے تجارتی خسارہ بڑھے گا۔اس لیے نگران حکومت ڈالر کو کنٹرول اور روپے کی قدر میں اضافہ کیلئے اقدامات کریں۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…