بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پردیسی خوار ہوگئے

datetime 23  ستمبر‬‮  2015 |
LAHORE, PAKISTAN, NOV 05: People travel on an overloaded passenger bus as they are going to their native areas for celebrate Eid-ul-Azha with their family members, at Badami Bagh bus stand in Lahore on Saturday, November 05, 2011. (Babar Shah/PPI Images).

لاہور( نیوزڈیسک)پردیسیوں کی اکثریت عید الاضحی اپنے آبائی علاقوں میں منانے کیلئے روانہ ہو گئی ،پردیسیوں کی روانگی کے باعث بس اسٹینڈز اور ریلوے اسٹیشنز پر مسافروں کا انتہائی رش دیکھنے میں آیا ،انتظامیہ کے دعوﺅں کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے معمول سے زائد کرائے وصو ل کئے جس پر توں تکرار بھی ہوتی رہی۔تفصیلات کے مطابق روزگار اور تعلیم کے حصول کے لئے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لا کھو ں پردیسی حکومت کی طرف سے عید الاضحی کے سلسلہ میں جمعرات سے اتوار تک تعطیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ روز اپنے اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو گئے جس کے باعث جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ سمیت لاہور کے دیگر پرائیو یٹ بس اڈوں اور ریلو ے اسٹیشنزپر مسافروں کا زبر دست رش رہا تاہم ٹرانسپورٹ مافیا نے عیدی بنانے کے چکروں میں کرایو ں میں از خود 20سے 30فیصد بڑھا ئے جس کی وجہ سے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز میں توں تکرار بھی دیکھنے میں آئی ۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے گاڑیاں بھر کر لے جارہے ہیں لیکن واپسی پر خالی آرہے ہیں اور خالی واپس آنے کا مقصد صرف شہروں سے مسافروں کو انکے آبائی علاقوں میں پہنچانا ہے صرف تیس سے چالیس روپے ہی تو زائد وصول کر رہے ہیں ۔پردیسیوں کی روانگی کا سلسلہ آج جمعرات کے روز بھی جاری رہے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…