ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

چینی کی قیمتوں میں 20 سے 25 روپے فی کلو اضافہ

datetime 7  جولائی  2023 |

فیصل آباد، شوگر مافیا سرگرم’ عید گزرتے ہی چینی کی قیمتوں میں 20 سے 25 روپے فی کلو اضافہ کر دیا
مکوآنہ (این این آئی)فیصل آباد سمیت ملک بھر میں شوگر مافیا سرگرم’ عید گزرتے ہی چینی کی قیمتوں میں 20 سے 25 روپے فی کلو اضافہ کر دیااوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 130 روپے فی کلو ہوگئی،مافیا چینی منافع خوروں اور ذکیرہ اندوزوں کے سامنے حکومت کے ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی بے بس، مزید مہنگی ہونے کا خدشہ تفصیلات کے مطابق حکومت نے شوگر ملوں کی چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت ملتے ہی ملک بھر میں چینی کی سپلائی روک دی، چینی کی قلت پیدا ہوتے ہی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی۔

جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے شوگر ملوں کو ایکسپورٹ کی اجازت نہ ملنے پر چینی کی قیمتیں بتدریج کم ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چینی کی ایکسپورٹ کی آڑ میں شوگر مافیا چینی سمگل کرنے میں بھی مصروف ہے۔حکومت چینی کی سمگلنگ کو روکنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ملوں نے چینی کی وافر مقدار ظاہر کر کے حکومت کو رام کرتے ہوئے چینی کی وافر مقدار ایکسپورٹ کرنے کی اجازت مانگی تو حکومت شوگر مافیا کی باتوں میں آ کر چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دے دی تو شوگر مافیا سرگرم ہو گیا۔ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ چینی کی سمگل بھی شروع کر دی۔ ذرائع کے مطابق تقریباً ایک کروڑ بوری چینی سمگل ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے جسکی وجہ سے شوگر کا شارٹ فال ہو گیا۔

چینی کی مقدار کم ہونے پر شوگر مل مالکان نے عید سے قبل چینی کی قیمت ایک سو روپے کے لگ بھگ تھی وہ اب 125 تا 130 روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور آئے روز اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ سے شہری تنگ ہیں کہ اب شوگر مافیا،منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوںنے بھی چینی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے حکومت کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے بے بس نظر آئی رہی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت نے چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت نہ دی تو وہاں پر چینی کی قیمتیں بتدریج کم ہو رہی ہیں جبکہ ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہنے لگی۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر چینی کی ایکسپورٹ بند اور چینی کی سمگلنگ کو روکنے کیلئےموثر اقدامات کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…