ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف معاہدے پر پیپلزپارٹی کے ردعمل کا نہ آنادال میں کچھ کالا ہے

datetime 3  جولائی  2023 |

لاہور( این این آئی) سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کو سویڈن سے اپنا سفیر احتجاجاً واپس بلا لینا چاہیے ،آنے والے 45 دن پاکستان کی معاشی سلامتی اورسیاسی مستقبل کے لیے اہم ہیں ،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں کیونکہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے ،سیاسی استحکام ہوگا تو معاشی استحکام ہوگا ،سیاسی استحکام معاشی اور اقتصادی مالی استحکام کی بنیاد بنے گا، 13 جماعتیں نہیں پاکستان کے 25 کروڑ لوگ ہی پاکستان کی بقا ء اور اس کے ضامن ہیں ،دبئی میں ایک ہفتہ بڑھائیں یا دو ہفتے بڑھائیں ان کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے ۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 13 اگست تک حکومت کا کٹی کٹا نکل آئے گا ،ایک جاپان ہی رہ گیا تھا وہ بھی وزیر خارجہ نے پورا کر لیا ہے ،اور سیز پاکستانیوں سے خطاب کے بجائے ان کو ووٹ دینے کا حق دیا جائے ،پاکستان کے حقیقی مالک ا س کے عوام ہیں، یہ مسترد شدہ سیاست دانوں کی جاگیر نہیں ،حکمران صرف نیب ترمیم کے ذریعے اپنے کیس ختم کروانے آئے تھے وہ کرا وا لیے ہیں لیکن عوام کو مہنگائی کے جہنم میں ڈال دیا ہے ،415 ارب روپے کے نئے ٹیکس عوام کی گردن میں ڈال دئیے گئے ہیں ،آئی ایم ایف کا ابھی زبانی اعلان آیا ہے ،12 جولائی کو تحریری اعلان آئے گا 12 جولائی سے عوام کے لیے بجلی گیس اور اجناس مزید مہنگے ہو جائیں گے ،تنخوادار طبقہ مزید پس کر رہ گیا ہے ،ابھی تک پیپلزپارٹی کی طرف سے آئی ایم ایف کے معاہدے پر کوئی ردعمل نہیں آیا جس کا مطلب ہے ابھی دال میں کچھ کالا ہے ،ہارس ٹریڈنگ کرکے خریدو فروخت کی منڈی لگا کے چور دروازے سے آنے والے عوام کے غیض و غضب کے لیے تیار ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر پاکستان کو اپنا سفیر واپس بلا لینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…