منگل‬‮ ، 17 مارچ‬‮ 2026 

آئندہ سال مارچ تک سعودیہ اور اسرائیل کا ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا عندیہ

datetime 28  جون‬‮  2023 |

ریاض /مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی) سعودی عرب اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اورایک دوسرے کو آئندہ سال مارچ تک تسلیم کرلینے کا عندیہ دیا ہے،امریکہ عالمی سفارتکاری کی ھزیمتوں کے بعد بڑی کامیابی حاصل کرنے کا خواہاں ہے،سعودی عرب کا امریکہ سے نیٹو جیسے تحفظ کا تقاضا کیا ہے جس میں نیٹو کے ایک ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ شمار ہو گا۔

سعودی عرب اوراسرائیل نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کااعلان کیاہے اس طرح دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو آئندہ سال مارچ تک تسلیم کرلینے کا عندیہ دیدیا ہے اسرائیلی وزیرخارجہ ایگی کوہن نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس امرکااعلان کیاہے اور بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی چینلز سے بات جاری ہے ان میں واشنگٹن کو اولیت حاصل ہے

تل ابیب کے لئے مارچ 2024ء تک ریاض کے ساتھ تعلقات کے امکان کی کھڑکی کھل گئی ہے جس کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن فاتحانہ اپنے نئے انتخاب کی مہم میں مصروف ہو جائیں گے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا تو پاکستان مثبت طورپر اس معاملے کا جائزہ لے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ نے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام میں دلچسپی رکھتاہے اسرائیل میں امریکی کے سابق سفیر مارٹن انڈکرنے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ مراسم کو معمول پر لانے کے لئے گراں قیمت مطالبات پیش کئے ہیں ایک امریکہ اسرائیل کو سلامتی کیلئے وہی حمایت دے جو اس نے نیٹو کے رکن ممالک کو اس کی دفعہ پانچ کے تحت دے رکھی ہے اس کی رو سے نیٹو کے کسی رکن ملک پرحملہ، امریکہ پر حملہ تصور ہوگا۔

امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کو آزادانہ ہتھیاروں کی فراہمی ہو گی جن میں جدید ترین ایف۔35لڑاکا طیاروں کی فراہمی بہم رسانی بھی شامل ہے سعودی عرب نے اپنے پرامن جوہری پروگرام کے لئے یورنیم میں افزودگی کی اجازت کو بھی مطالبات میں درج کردیا ہے سعودی عرب تاحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اورنہ ہی اس نے ابراہم معاہدے میں شمولیت اختیار کی ہے جس کی روشنی میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سے تعلقات 2020میں استوار ہوئے تھے۔

سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرمان نے جون کے اوائل میں رائے ظاہر کی تھی کہ سعودی عرب اوراسرائیل کے مابین تعلقات کا معمول پر آنا خطے کے مفاد میں ہے تاہم اس کے لئے تنازع فلسطین کا حل ہونا اشد ضروری ہے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقا ت کو معمول پر لانے کی اپنی خواہش کا زور دیکر ذکر کیاہے اورکہا ہے کہ اسرائیل اور عرب دنیاکے درمیان جامع امن کے لئے بہت بڑی جست ہوگی جس سے عرب، اسرائیل اور فلسطین، اسرائیل کے تصادم کو ختم کیا جاسکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)


یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…