منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد ایئرپورٹ کو لیز پر دینے کا فیصلہ

datetime 27  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوائی اڈوں کے آپریشنز کی آئوٹ سورسنگ کی نگرانی کیلئے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں پہلے ائیر پورٹس کو آئوٹ سورس کرنے کے حوالے سے مستقبل کے روڈ میپ کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت ائیرپورٹس کی سروس میں بہتری اور عالمی معیارکی سہولیات فراہم ہونگی۔

جنگ اخبار میں مہتاب حیدر کی خبر کے مطابق اجلاس میں آئی ایف سی، ٹرانزیکشن ایڈوائزر نے کمیٹی کو تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں ائرپورٹ کی سروس ڈیلیوری کو بہتر بنانے اور بہترین بین الاقوامی طریقوں سے مطابقت رکھنے کیلئے پہلے ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ کیلئے مستقبل کے روڈ میپ کے بارے میں فیصلے کئے گئے۔علاوہ ازیں کراچی اورلاہورکے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ میں درپیش عملی دشواریوں کے پیش نظر حکومت نےپہلے مرحلے میں نیواسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو خواہش مند عالمی سرمایہ کاروں کولیز پر دینے کا فیصلہ کیاہے ۔

کراچی اور لاہورایئرپورٹ کی نسبت نیواسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ صاف اورواضح قراردیاگیاہے اس لئے حکومت اس ایئرپورٹ کی جلدازجلدآوٹ سورسنگ کیلئے آگے بڑھنے پر غورکررہی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ اگست 2023ءمیں اس کی مدت پوری ہونے سے پہلے نیواسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کردی جائے مگر تاہم مقررہ مدت میں یہ کام مکمل ہوتانظر نہیں آتا۔

ذرائع نے  بتایاکہ ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سےپہلے کچھ عملی ایشوزحل کرنا ہوں گے جیسا کہ پی آئی اے ایئرپورٹس سہولیات کے حوالے سےنادہندہ ہے ۔اگر حکومت پی آئی اے کے پرانے بقایات معاف بھی کردیتی ہے توایئرپورٹس کا انتظام سنبھالنے والی نئی کمپنی کس طرح پی آئی اے کو مفت میں یہ سروسز فراہم کرے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…