منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کشتی حادثہ،23 لاکھ روپے میں موت خریدی‘ ’یونانی کوسٹ گارڈ ڈوبتا دیکھتے رہے‘

datetime 20  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)اپنے بہترین مستقبل کیلئے ایجنٹس کو 23 لاکھ روپے ادا کر کے غیر قانونی طریقے سے اٹلی جانے کی کوشش کرنے والوں کی کشتی کو یونان میں حادثہ پیش آیا، جس کے بعد سے سیکڑوں لاپتہ ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس کے مطابق بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ واقعہ یونان کے کوسٹ گارڈ کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے پیش آیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے اور اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کشتی حادثے یونانی کوسٹ گارڈز کی سنگین غفلت کی وجہ سے پیش آیا ورنہ انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ کشتی حادثے میں یونانی کوسٹ گارڈز کی مجرمانہ غفلت بے نقاب ہوئی جس کے ثبوت بھی حاصل کرلیے گئے ہیں اور اس حوالے سے یونان کے حکام نے رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔رپورٹ کے مطابق حادثے سے کچھ دیر پہلے تک کشتی اٹلی کی طرف بڑھی جبکہ یونانی کوسٹ گارڈز نے مدد سے انکار کیا، ڈوبنے سے پہلے کشتی 7 گھنٹوں تک ایک ہی جگہ کھڑی رہی جبکہ کشتی کا انجن فیل ہوچکا تھا، عملہ 7 گھنٹے تک گڑ گڑا کر کوسٹ گارڈز سے مدد مانگتا رہا۔دوسری جانب انسانی اسمگلرز لوگوں کو پاکستان سے یورپ بھیجنے کے لیے 2 مختلف روٹ اختیار کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کے لیے پہلے اور قدیم روٹ کو ترکی روٹ کہا جاتا ہےاس میں انسانی اسمگلرز لوگوں کو بلوچستان کے تفتاں بارڈر سے ایران اور پھر ایران سے مکو پہاڑی کے راستے ترکی لے جاتے ہیں۔ترکی سے پھر انسانوں کو یونان اسمگل کیا جاتا ہے، اس روٹ کا زیادہ حصہ خشکی کے راستوں پر مشتمل ہے۔صرف یونان سے پہلے سمندر کا ایک چھوٹا حصہ عبور کرنا پڑتا ہے، اس راستے پر یونان نے کچھ عرصہ قبل اتنی سکیورٹی بڑھا دی ہے کہ اب یہاں سے داخل ہونا آسان نہیں ہے۔ یونان کا روٹ بند ہونے پر انسانی اسمگلرز نے اپنا دھندہ چلانے کے لیے لیبیا کے ذریعے اٹلی کا نیا روٹ بنا رکھا ہے، اس میں پاکستانیوں کو یہاں سے ہوائی راستے سے پہلے دبئی، مصر اور پھر لیبیا لے جایا جاتا ہے جہاں انہیں بن غازی اور تبرک کے علاقوں سے طویل سمندری راستے کے ذریعے اٹلی منتقل کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…