منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، عام آدمی کا گزر بسرمزید مشکل ہوگیا

datetime 19  جون‬‮  2023 |

رائے ونڈ (این این آئی)آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے عام آدمی کا گزر بسر مشکل ہوگیا۔فلور ملز مالکان کی مبینہ ملی بھگت سے آٹے کی قیمت میں 300روپے تھیلے کا اضافہ ہونے سے شہری پریشانی میں مبتلا ہو گئے جبکہ فلور ملز مالکان کا موقف ہے کہ گندم مہنگی ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور بھر میں واقع فلور ملز مالکان نے اچانک آٹے کے 20کلو تھیلے کی قیمت میں اچانک 300روپے تک اضافہ کردیا ہے اسی طرح 10کلو تھیلے کی قیمت میں 150روپے فی تھیلا اضافہ ہونے سے جہاں گاہک پریشان نظر آرہے ہیں وہاں آٹا ڈیلرزکی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے فلور ملز مالکان کی جانب سے 300روپے فی تھیلا قیمتوں میں اضافے سے عوام کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی گندم کی سندھ سمیت دیگر صوبوں میں اسمگلنگ کے باعث گندم کی قیمتوں میں عدم استحکام آنے کے باعث فلور ملز مالکان نے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے،فلورملز مالکان کا کہنا ہے کہ ہمیں 4600روپے فی من گندم خریدنی پڑ رہی ہے جس سے آٹے کی پسائی سمیت دیگر اخراجات میں اضافہ کرنا گزیر ہو چکا ہے،دوسری جانب مارکیٹ میں ملنے والا دس کلو آٹے کا تھیلا 1150سے بڑھ کر1300جبکہ بیس کلو آٹے کا تھیلا 2300روپے میں ملنے والا تھیلا 2600روپے میں فروخت ہورہا ہے،

جنوبی پنجاب میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 100فی صد پرمٹ نہ ملنے کے باعث گندم کی قیمتوں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث لاہور سمیت ملحقہ علاقوں میں واقع فلور ملز مالکان نے آٹے کی قیمتیں بڑھا دی ہیں،فلور ملز مالکان نے آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو آئندہ ہفتے میں مزید 100روپے تھیلے اضافے کا امکان ہے،عوامی حلقوں نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف،وزیر اعلیٰ محسن نقوی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…