منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کریڈٹ کارڈ بچی کے ہاتھ لگنا خاندان کے لیے زندگی بھر کا ڈرانا خواب بن گیا

datetime 9  جون‬‮  2023 |

بیجنگ(این این آئی)چین میں ایک خاندان کی زندگی اس وقت ڈرانے خواب میں بدل گئی جب ماں کا کریڈٹ کارڈ اس کی بیٹی کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے الیکٹرانک گیمز پر خطیر رقم خرچ کرڈالی۔ اس خاندان کی برسوں سے جمع کی گئی تمام بچت ختم ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 13 سالہ لڑکی نے اس سال اپنے والدین کی تقریبا 64 ہزار ڈالر کی رقم الیکٹرانک گیمز پر خرچ کرڈالی۔

لڑکی کے والدین حیران رہ گئے تھے کہ ان کی بیٹی نے کھیلنے کے لیے ان کا سب کچھ خرچ کر ڈالا تھا لیکن والدین کو جس وقت ہوش آیا تو بہت دیر ہو گئی تھی۔والدہ کو اس کے متعلق گزشتہ مئی میں اس وقت پتہ چلا جب اسے سکول سے ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ اس کی بیٹی ادا کردہ الیکٹرانک گیمز کی بہت عادی ہو گئی ہے۔جب گونگ یوانگ نے اپنا بینک اکانٹ چیک کرنے کے لیے جلدی کی تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئی کہ بقیہ بیلنس چند سینٹس سے زیادہ نہیں تھا۔ ماں کو بعد میں پتہ چلا کہ بیٹی نے اس سال جنوری اور مئی کے درمیان گیم اکانٹس خریدنے پر تقریبا 16 ہزار ڈالر خرچ کیے تھے اور پھر مزید 30 ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔لڑکی الیکٹرانک گیمز نہ صرف اکیلی کھیلتی تھی بلکہ اس نے اپنے ساتھیوں کو الیکٹرانک طور پر کھیلنے کی اجازت دینے کے لیے بھی کچھ رقم منتقل کی تھی۔ اس طرح اس سال کے دوران اس نے 64 ہزار ڈالرز گیمز پر خرچ کر دیئے تھے۔والدہ نے بتایا کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس عمر کا بچہ ایسی حرکت کرے گا۔ میں صدمے میں تھی اور خاندان کے ساتھ ہونے والی اس وحشت پر تقریبا پھٹ پڑی۔ ماں نے روتے ہوئے بتایا بیٹی کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی والدہ کے بینک کارڈ کو اپنے موبائل فون سے لنک کیا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ جو رقم خرچ کر رہی ہے وہ کہاں سے آ رہی ہے۔ ماں نے بتایا کہ بیٹی کو پاس ورڈ یاد تھا کیونکہ اس مرتبہ کچھ خریدتے وقت میں نے اسے بتایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…