منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملائیشیا میں روکے گئے پی آئی اے کے طیارے کو وطن واپسی کی اجازت مل گئی

datetime 3  جون‬‮  2023 |

کوالالمپور(این این آئی)ملائیشیا کی عدالت نے کوالالمپور میں روکے گئے قومی ایئر لائن پی آئی اے کے طیارے کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عدالت نے طیارے کو روکنے کا حکم کو معطل کر دیا، پی آئی اے کی لیگل ٹیم نے 3 دن میں عدالتی حکم کو معطل کروا کے طیارہ واگزار کروا لیا۔

ذرائع کے مطابق 26 مئی کو ملائیشیا کی مقامی عدالت نے بغیر پی آئی اے کو طلب یا نوٹس کیے طیارہ روکنے کے احکامات جاری کیے تھے۔طیارہ روکنے کے احکامات 29 مئی کو طیارے کی روانگی سے چند منٹ قبل پی آئی اے اور ایئر پورٹ حکام کو وصول کروائے گئے۔پی آئی اے کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقامی عدالت نے جمعے کو طیارہ روکنے کے حکم کو پی آئی اے کے حق میں ختم کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا طیارہ کال سائن 6893 کے ساتھ فیری فلائٹ (مسافروں کے بغیر) پرواز کر کے واپس آئے گا، بھارتی فضائی حدود میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے طیارہ ابھی تک پرواز نہیں کر سکا۔بھارتی ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے طیارے کو بھارتی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، بھارتی حدود میں داخلے کی اجازت نہ ملنے سے طیارے کی روانگی میں مسلسل تاخیر ہوئی۔طیارے کی روانگی کا وقت دو مرتبہ تبدیل کیا گیا ابھی بھی حتمی وقت نہیں ملا، بھارتی حکام خالی طیارے کو فضائی حدود میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے پی آئی اے سے وضاحت چاہتے ہیں۔پی آئی اے کے بوئنگ 777 طیارے کو مسافروں کے بغیر پرواز کر کے وطن واپس آنا ہے، پی آئی اے حکام اجازت کے لیے بھارتی ایوی ایشن سے مسلسل رابطے میں ہیں، اجازت کے بعد توقع ہے کہ طیارہ ہفتے کی رات کوالالمپور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو جائے گا۔

پی آئی اے ترجمان کا کہنا تھاکہ ملائیشیا کی عدالت نے لیزنگ کمپنی کی درخواست پر پی آئی اے کے طیارے کو کوالالمپور ایئر پورٹ پر روک لیا تھا، طیارہ 29 مئی سے کوالالمپور ایئر پورٹ پر کھڑا ہے۔پی آئی اے اور آئرش لیزنگ کمپنی کے درمیان طیارے کے انجن کی لیز فیس کا تنازع ہے، بوئنگ 777 ملائیشیا کی عدالت کے حکم پر روکے جانے سے پی آئی اے کو لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…