منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

راول ڈیم میں زہریلے کیمیکل سے ہزاروں آبی حیات مار دی گئیں

datetime 2  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کے راول ڈیم میں زہریلا کیمکل اور زہر ملاکر مچھلیاں پکڑنے کی کوشش میں ہزاروں آبی حیات مار دی گئیں جبکہ ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تفصلیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے راول ڈیم کے قریب سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جہاں مچھلی مرنے کے بعد مارکیٹ میں فروخت کی جانی تھی۔

ڈیم میں زہریلہ مواد چھوڑنے سے آبی حیات کے ساتھ ساتھ پانی پینے والے پرندے بھی تڑپ تڑپ کر مر گئے۔واضح رہے کہ راول ڈیم میں کرنٹ اور گرنیڈ کے ذریعے مچھلیوں کو مارنے کے پہلے بھی واقعات ہو چکے ہیں۔وفاقی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کر لیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایک نجی کمپنی مجید اینڈ کو نے راول ڈیم میں 3 سال کے لیے مچھلی کا شکار کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔

کمپنی کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 31 مئی کو جب ہمارا اسٹاف معمول کی چیکنگ کر رہا تھا تو دو افراد کو پکڑلیا گیا جو پانی میں رہریلہ کیمیکل اور زہر ملا کر مچھلی پکڑ رہے تھے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جب دونوں ملزمان کو پکڑ کر دفتر لایا گیا تو اسی دوران مختلف پوائنٹس پر مچھلیاں اور پرندے تڑپ کر مرنا شروع ہوئے اور کمپنی نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

کہا گیا کہ پنجاب کے محکمہ فشریز نے موقع پر پہنچ کر پانی کا معائنہ کیا اور پانی، مری ہوئی مچھلیوں اور پرندوں کے نمونے لیے جبکہ پولیس نے دونوں افراد کو گرفتار کرکے تھانہ منتقل کردیا۔ایف آئی آر میں استدعا کی گئی ہے کہ ان افراد کے پیچھے جو مافیا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے کمپنی کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا۔گرفتار کیے گئے ملزمان کی شناخت امداد حسین اور عرفان کے ناموں سے ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…