پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا 10 لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا منصوبہ، پالیسی ڈرافٹ تیار

datetime 20  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت پاکستان نے پہلی ‘نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (اے آئی) پالیسی کا ڈرافٹ تیار کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں سرکاری ملازمین سمیت مجموعی طور پر 10 لاکھ افراد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دینے کا اعلان کردیا۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ‘نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی جانب سے تیار کردہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے ڈرافٹ کو شائع کردیا گیا، جس میں منصوبے کی مکمل تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔قومی مصنوعی ذہانت منصوبے کو طویل مدتی منصوبہ قرار دیا گیا ہے، جسے ترتیب وار ملک کے تمام علاقوں اور شعبہ جات میں بڑھایا جائے گا اور ملک کی زراعت سے لے کر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے گا۔پالیسی کے مطابق حکومت ترتیب وار نہ صرف طلبہ بلکہ استادوں، سرکاری ملازمین، نجی ملازمت کرنے والے افراد، کسانوں، صحت اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ افراد کو بھی مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کرنے کے اقدامات اٹھائے گی۔ڈرافٹ کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے دارالحکومت اسلام سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں بھی قومی مصنوعی ذہانت کے سینٹرز بنائے جائیں گے۔پہلی قومی پالیسی میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت گریڈ 12 سے 22 تک کے تمام سرکاری ملازمین کو بھی مرحلہ وار مصنوعی ذہانت کی تربیت فراہم کی جائے گی اور ہر شعبے کے افراد کو اسی کے شعبے سے متعلق ٹریننگ دی جائے گی۔پالیسی کے مطابق سب سے پہلے مصنوعی ذہانت کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ماہرین تیار کیے جائیں گے، یعنی ٹرینرز کو تیار کرنے کے بعد منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام کیا جائے گا۔علاوہ ازیں مصنوعی ذہانت پر تحقیق کے لیے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں ریسرج کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے اور ادارے قومی مصنوعی ذہانت فنڈ میں اپنی رقم جمع کروائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…