جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں منتقل کیا جائےگا

datetime 2  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں کی اصل وجہ جنید اکبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ سے ہٹوانا تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو جنید اکبر کی سربراہی قبول نہیں تھی، اسی لیے حکمتِ عملی کے تحت استعفے دلوائے گئے۔سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ پی اے سی کی چیئرمین شپ پہلے ہی جنید اکبر کے پاس تھی، لیکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ایک سازش کے تحت سب کمیٹیوں سے استعفے دلوائے گئے تاکہ انہیں اس منصب سے الگ کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس وقت اسلام آباد کے جتنے قیدی اڈیالہ جیل میں ہیں، سب کو بھی ڈسٹرکٹ جیل میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کے حامی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو بنی گالہ یا زمان پارک میں رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔اسی پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنما شیرافضل مروت نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو نکات آج علی امین گنڈاپور اٹھا رہے ہیں، وہ میں طویل عرصے سے بیان کر رہا ہوں۔ ان کے مطابق اپریل 2024 سے ہی پی ٹی آئی کے اندر تقسیم شروع ہو گئی تھی۔شیرافضل مروت نے بتایا کہ علیمہ خان کو یہ خدشہ تھا کہ پارٹی پر بشریٰ بی بی کا کنٹرول قائم ہو جائے گا۔ اسی دوران انہوں نے ایک پارلیمنٹرین کو گھر مدعو کیا، جس میں وہ خود بھی شریک تھے۔ ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی تھی کہ علیمہ خان کو سپورٹ ملے، جبکہ علی امین کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مواقع پچھلے چھ ماہ سے نہیں مل رہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا مکمل اختیار علیمہ خان کے پاس رہا۔ صرف وہی نام آگے بڑھایا جاتا جس کی منظوری علیمہ خان دیتیں۔ اسی دوران جنید اکبر کو بھی اسی گروپ بندی کے ذریعے آگے لایا گیا تاکہ علی امین کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹانے کا راستہ ہموار ہو۔شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ علیمہ خان اور علی امین کے درمیان پرانا اختلاف چل رہا ہے۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا کابینہ میں مزید تبدیلیاں بھی اسی تناظر میں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علیمہ خان نے کئی میٹنگز میں سخت رویہ اختیار کیا اور کم از کم تین بار جنید اکبر سے استعفیٰ طلب کیا۔ حتیٰ کہ جنید اکبر نے اپنا استعفیٰ بیرسٹر گوہر کے حوالے بھی کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…