جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پولیس اہلکار نے براہ راست نشریات میں بچے کو کرنٹ لگا دیا

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

ایڈنبرگ(این این آئی)سوشل میڈیا پر ایک بچے کی حیران کن فوٹیج پھیل گئی ہے۔ بچے کی عمر 11 سال سے زیادہ نہیں، وہ ایک چاقو لہرا رہا تھا جب سکاٹ لینڈ میں پولیس اہلکاروں نے اسے گھیرے میں لے لیا۔ اہلکار اس سے خوفزدہ ہو کر اس سے چاقو پھینکنے کو کہہ رہے تھے کہ ایک اہلکار نے بچے کو بجلی کے جھٹکے دے ڈالے ۔

میڈیارپورٹس کے مطابق فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچہ فون بھی پکڑے ہوئے ہے اور اس واقعے کی فلم بندی کرتے ہوئے کہہ رہا ہے میں اب ٹک ٹاک پر براہ راست نشریات پر ہوں۔ پولیس والوں کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔ پولیس اہلکار کہ رہا ہے چاقو پھینک دو اور اسے اپنے سے دور رکھو۔اس کے بعد ایک اہلکار الیکٹرک سٹن گن تھامے اس کے پاس پہنچا۔ اسے کرنٹ کا جھٹکا دے ڈالا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ کرنٹ لگنے سے لڑکا درد سے چیخ اٹھا تھا۔ بچے کو بار بار پولیس کو برا بھلا کہتے اور پارک کی گھاس پر درد سے کراہتے ہوئے بھی سنا گیا۔ امکان ہے کہ یہ بچہ سکاٹ لینڈ میں کرنٹ کا شکار ہونے والا سب سے کم عمر انسان ہے۔پولیس نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور بہت سے لوگوں نے 18 سال سے کم عمر کے بچوں پر الیکٹرک سٹن گن کے استعمال کے رواج پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…