منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

تیونس میں 88 سالہ السبسی ملک کے صدر منتخب

datetime 22  دسمبر‬‮  2014 |

تیونس کے عبوری صدر منصف مرزوقی نے ملک میں ہونے والے پہلے شفاف صدارتی انتخابات میں شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ان کے حریف کی جانب سے فتح کا اعلان ’غیر جمہوری‘ ہے۔اس سے قبل ان کے حریف الباجی قائد السبسی نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایگزٹ پولز میں کہا گیا ہے کہ انھیں 55.5 فی صد ووٹ ملے ہیں۔دارالحکومت تیونس میں 88 سالہ السبسی کے حامیوں نے جشن منایا۔
السبسی نے گذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے
تاہم ان کے حریف اور ملک کے نگراں صدر منصف مرزوقی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انتخابات اتنے کانٹے کے تھے کہ نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔عبوری صدر مرزوقی نے کہا: ’جیت کا اعلان غیر جمہوری ہے۔ اگر ہم واقعی جمہوری ملک ہیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔’ہم آپ کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم فاتح رہے، ہم فاتح ہیں ہم فتح یاب ہوئے۔ تیونس نے جیت حاصل کی ہے اور آپ کامیاب ہوئے ہیں۔ آپ نے تیونس کے لیے، جمہوریت کے لیے اور انسانی حقوق کے لیے جیت حاصل کی ہے۔‘ایک ایگزٹ پولز میں کہا گیا ہے کہ السبسی کو 55.5 فی صد ووٹ ملے ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ السبسی کی کامیابی کا مطلب بدنام نظام کی واپسی ہے جبکہ الباجی قائد کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ ہیں اور ملک میں استحکام لائیں گے۔واضح رہے کہ تیونس پہلا ملک تھا جس نے اپنے رہنما کو حکومت سے ہٹا کر خطے میں بغاوت کی ہوا چلائی تھی جسے ’عرب سپرنگ‘ کا نام دیا گیا تھا۔تیونس میں دوسرے مرحلے کے انتخابات میں باضابطہ نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے تاہم ایک ایگزٹ پول میں السبسی کو 55.5 فی صد ووٹ ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ دوسرے ایگزٹ پول میں بھی اسی قسم کی بات بتائی گئی ہے۔ایسبسی کے حامیوں نے دارالحکومت تیونس میں جشن منایا
تیونس میں انتخابات کے پیش نظر سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے تھے اور لیبیا کی سرحد کو بند کر دیا گ?ا تھا۔
اتوار کو کم از کم تین افراد پر مشتمل ایک حملہ آور گروہ نے کیروان شہر کے پاس ایک پولنگ سٹیشن کو نشانہ بنایا۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے ایک حملہ آور کو ہلاک جبکہ تین افراد کو گرفتار کیا۔

جیت کا جشن مناتے تیونس باشندے
اتوار کو ووٹ ڈالنے کے عمل کے اختتام پر السبسی نے ایک مقامی ٹی وی چینل پر کہا: ’میں اپنی کامیابی کو تیونس کے شہیدوں کے نام کرتا ہوں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’میں مرزوقی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور کسی کو بھی علیحدہ کیے بغیر اب ہم دونوں مل کر کام کریں گے۔‘
88 سالہ السبسی معزول صدر زین العابدین کی حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں اور ان انتخابات میں سیکیولر جماعت ندا تیونس (صدائے تیونس) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ان کے مخالف 67 سالہ منصف مرزوقی سنہ 2011 سے عبوری صدر ہیں۔
مرزوقی انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور سابقہ حکومت کے دور میں وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
السبسی نے گذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…