پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

ریٹائرڈ فوجی افسر اور اہلکار بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل فوج کی ہائی کمان ان لوگوں کا ملٹری ٹرائل کریگی

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جناح ہاؤس لاہور‘ جی ایچ کیو راولپنڈی اور دوسری حساس سرکاری‘ فوجی املاک کو جزوی یا کلی طور پر تباہ کرنے والے ملزموں کیخلاف فوری سماعت کی فوجی عدالتوں کی تشکیل جلد کی جائیگی۔یہ بھی طے کر لیا گیا ہے کہ فوری سماعت کی ملٹری کورٹس کا سربراہ کم سے کم کرنل‘ بریگیڈئر اور زیادہ سے زیادہ میجر جنرل کے عہدے کا فوجی افسر ہو گا۔

جنگ اخبار میں حنیف خالد کی خبر کے مطابق آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ فوری سماعت کی فوجی عدالتیں جرائم کی تحقیقات کریں گی۔ وفاقی دارالحکومت‘ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اعلیٰ عدالتوں کو بھی فوری سماعت کی فوجی عدالتوں کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرنے دی جائیگی۔ 1975-76ء میں اٹک سازش کا ٹرائل اُس وقت کے میجر جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں قائم ملٹری کورٹ نے کیا تھا۔اُس زمانے کے نوجوان افسروں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کیخلاف سازش کی تھی تو قلعہ اٹک میں میجر جنرل محمد ضیاء الحق اور اُنکی فوجی عدالت نے ملزمان کو پھانسی اور عمر قید کی سخت سزائیں دینے کی سفارش کی تھی جبکہ اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سزاؤں میں نرمی کر دی تھی۔آرمی ایکٹ کے تحت جرم ناقابل دست اندازی پولیس نہیں ہے‘ آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری کورٹس ہی ہر قسم کے جرائم پر ایکشن لیں گی۔سول کے علاوہ ریٹائرڈ فوجی افسر اور اہلکار بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔ فوج کی ہائی کمان ان لوگوں کا ملٹری ٹرائل کریگی۔آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات رجسٹر یہ عدالتیں کریں گی۔متعلقہ فوجی افسر اس بارے باقاعدہ شکایت دائر کریگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…