جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت،منی پور میں دس ارکان اسمبلی کاعلیحدہ ریاست کا مطالبہ

datetime 15  مئی‬‮  2023 |

امپھال(این این آئی)بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ مختلف پارٹیوں کے 10قبائلی ارکان اسمبلی نے جن میں بی جے پی کے پانچ ارکان بھی شامل ہیں، کوکی قبائلیوں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کردیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تقریبا ایک دہائی سے سول سوسائٹی کے کچھ قبائلی حامی طبقات اور این جی اوز منی پور میں رہنے والے قبائلیوں کے لیے الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جمعہ کو کوکی قبائل کے 10منتخب نمائندوں نے یہی مطالبہ اٹھایاجس میں شمال مشرقی ریاست کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر زور دیاگیا۔علیحدہ ریاست کا مطالبہ اس لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دس میں سے دو ایم ایل ایز وزیر ہیں اور ایک بی جے پی کے وزیر اعلیٰ بیرن سنگھ کے مشیرہیں۔3 مئی کو ذات پات کے تشدد کے بعد منی پور میں حالات ابھی تک معمول پرنہیں آئے اورکوکی برادری کے تمام دس ایم ایل ایز اس مطالبے میں شامل ہو گئے ہیں۔ بیرن سنگھ حکومت پر کمیونٹی کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ لہذا انہوں نے بھارتی آئین کے تحت علیحدہ انتظامیہ قائم کرنے اور منی پور کے پڑوسیوں کے طور پر امن سے رہنے کا عزم کیا ہے۔وزیر اعلیٰ سنگھ کو اپریل کے شروع میں حالیہ ذات پات کے تشدد سے پہلے جب بی جے پی کے چار سینئر قانون سازوں نے اپنے سرکاری عہدوں سے استعفی دیا تھا، شدید اختلاف کا سامنا تھا۔بی جے پی کے چار ایم ایل ایز نے مبینہ طور پر پارٹی کے مرکزی قائدین کے سامنے اپنی شکایات رکھنے کے لیے دہلی میں ڈیرے ڈالے۔ ان چار ایم ایل ایز کے علاوہ بھگوا پارٹی کے تقریبا ایک درجن ایم ایل ایز بھی مبینہ طور پر بیرن سنگھ کے کام کرنے کے انداز سے ناخوش ہیں۔10 ایم ایل ایزنے جن میں پانچ بی جے پی سے، دو جے ڈی یو سے، دو کوکی پیپلز الائنس سے اور ایک آزادہے ، قبائلیوں کے لیے الگ انتظامیہ کا مطالبہ کیاہے۔شمال مشرقی خطے میں قبائلیوں اور غیر قبائلیوں کے درمیان بہت سے مسائل پر اختلافات ہیں

جہاں کل آبادی کا27سے28 فیصد قبائلیوں پر مشتمل ہے۔منی پور میں علیحدہ ریاست کا مطالبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسے حکمران پارٹی کے قانون سازوں اور ان کے اتحادیوں نے اٹھایا ہے۔

ارکان اسمبلی نے کہاکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے طور پر ہم آج اپنے لوگوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں اور ریاست منی پور سے الگ ہونے کی ان کی سیاسی خواہش کی حمایت کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ ریاست منی پور ہماری حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، اس لیے ہم علیحدہ انتظامیہ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…