جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے طوفان میں ایک اور اضافہ کر دیا گیا

datetime 11  مئی‬‮  2023 |

حیدرآباد(این این آئی)نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ نے کہا ہے کہ آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے طوفان میں ایک اور اضافہ کر دیا گیا ہے کہ ڈیری مالکان نے دودھ کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کر کے 200 روپے کلو کر کے ضلعی انتظامیہ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں، ضلع انتظامیہ کی طرف سے دودھ کے نرخ 160 روپے کلو مقرر ہیں۔

این ایل ایف سندھ کے صدر شکیل احمد شیخ، سینئر نائب صدر قاسم جمال ، جنرل سیکریٹری محمد عمر شر، حیدرآباد زون کے سینئر نائب صدر مبین راجپوت، جنرل سیکریٹری اعجاز حسین، انفارمیشن سیکریٹری محمد احسن شیخ اور دیگر نے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں تو ضلعی انتظامیہ نے احکامات پر عمل کروایا لیکن عید کے فوری بعد دودھ کے نرخ ڈیری مالکان نے دوبارہ 200 روپے فی کلو کردئیے جس سے ضلع انتظامیہ نمٹنے میں تا حال ناکام ہے، بعض علاقوں میں ڈیری مالکان کے چالان بھی کئے گئے لیکن اب وہ اتنے نڈر اور بہادر ہو گئے ہیں کہ ڈیری مالکان جرمانہ ادا کرنے کے باوجود زبردستی 200 فی کلو پر با ضد ہیں، مہنگائی میں مار ی عوام اور غریب مزدور، ہاری، کسان، ملازمین ان کے رحم و کرم پر ہیں، شکیل احمد شیخ نے کہا کہ ضلع انتظامیہ فوری طور پر دودھ کے نرخ کے مقرر کردہ ریٹ جاری کرے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے ڈیری مالکان کو پابند کیا جائے ورنہ جو ڈیری مالکان ضلعی انتظامیہ کی مقرر کردہ ریٹ سے تجاوز کریں ان کی ڈیری مالکان کی دکانوں کی سیل کر دیا جائے او ر اس وقت تک کھولنے کی اجازت نہ دی جائے جب تک وہ حلف نامہ لکھ کر نہ دیں عموما دیکھا یہ گیا ہے کہ ڈیری مالکان جرمانہ ادا کرنے کے بعد دیدہ دلیری سے ضلع انتظامیہ کی کاروائی پر تمسخر اڑاتے ہیں جو کہ ضلع انتظامیہ کے کردار کشی کے مترادف ہے

انہوں نے چینی کے نرخ میں بھی بے پناہ اضافہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 85 روپے کلو چینی رمضان کے بعد تک مہیاکی جا ر ہی تھی لیکن اچانک تاجر حضرات نے چینی کے نرخ میں 30 سے 50 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا یہ بھی غریب مزدوروں کے ساتھ نارواں سلوک ہے لہذا فوری طور پر ان بڑھی ہوئی قیمتوں کو واپس لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…