پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

گوادر بندرگاہ نے روسی گندم کی درآمد کی پروسیسنگ کے تمام مراحل کامیابی سے طے کر کے آپریشنل قابلیت ثابت کردی

datetime 4  مئی‬‮  2023 |

گوادر( این این آئی)گوادر بندرگاہ نے روس سے درآمد کی گئی ساڑھے 4لاکھ میٹرک گندم کی پروسیسنگ کے تمام مراحل کامیابی سے طے کر کے اپنی آپریشنل قابلیت کو ثابت کر دیا ، روس سے 9بحری جہاز2 مارچ سے 03مئی تک ساڑھے 4لاکھ میٹرک ٹن گندم لے کر لنگر انداز ہوئے ۔گوادر شپنگ کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار نے گوادر پرو کو بتایا کہ گوادر پورٹ نے گندم کی ترسیل اور پروسیسنگ میں پاکستان کی دیگر بندرگاہوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ دیگر بندرگاہوں جیسے کے پی ٹی اور قاسم بندرگاہوں کے مقابلے میں زیادہ کفایتی ہے کیونکہ ان دو بندرگاہوں پر ہمیشہ بھیڑ رہتی ہے اور جہازوں کو بار بار ڈیمریج اور زیادہ اسٹوریج چارجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر بندر گاہ پر کوئی ڈیمریج اور سٹوریج چارجز نہیں ہیں، ساتھ ہی ساتھ تیز ترین سٹیوڈورنگ سروسز بھی ہیں۔مارچ کے پہلے ہفتے میں پہلے بحری جہاز کے لنگر انداز ہونے کے بعد سے اخراج اور ترسیل کے تمام مراحل کامیابی سے طے پائے ، ہر قسم کی لوڈنگ، آف لوڈنگ اور نقل و حمل پاکستانی افرادی قوت کے ذریعے کی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ دستی ہینڈلنگ کے بجائے ویب پر مبنی ون کسٹم کلیئرنس سسٹم (WeBOC) کو گوادر بندرگاہ سے گندم کی پروسیسنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ گوادر بندر گاہ میں WeBOC نے پاکستان سنگل ونڈو (PSW) کے تحت تمام تجارتی طریقہ کار اور لاجسٹک خدمات کی آٹومیشن، معیاری کاری اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان، پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ، پاکستان کسٹمز اینڈ نیشنل لاجسٹکس سیل، گوادر فری زون، اور گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈنے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ۔گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈ کے ایک اہلکار کے مطابق گوادر پورٹ کا استعمال کرتے ہوئے گندم کی درآمد ایک نیا سنگ میل ہے کیونکہ اس سے گوادر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

بندرگاہوں اور جہاز رانی کی وزارت کے نمائندوں کا مشورہ ہے کہ گندم کی کامیاب ہینڈلنگ کے بعد حکومت اس بندرگاہ کو مزید بین الاقوامی ترسیل کے لیے استعمال کرے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت برآمدات اور درآمدات، کارگو کی ترسیل اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو یقینی بنا کر گوادر بندرگاہ کو سپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…