جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

دستاویز لیک کرنیوالا امریکی اہلکار لاکھوں افراد کو مارنا چاہتا تھا، امریکی عدالت

datetime 29  اپریل‬‮  2023 |

واشنگٹن(این این آئی)پینٹاگون دستاویز لیک کرنے والے جیک ٹیکسیرا کے متعلق امریکی عدالت نے کہا ہے کہ وہ دنیا میں لاکھوں افراد کو مارنا چاہتا تھا اور اپنے بیڈ روم کی دیوار پر روسی فوجی تمغے لٹکانا چاہتا تھا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹیکسیرا نے باقاعدگی سے پرتشدد تبصرے کیے اور قتل کے اشارے کیے ہیں۔

اپنے تبصروں میں اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کمزور ذہن رکھنے والوں کو پھانسی دینے کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کر ڈالے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق عدالت نے مزید کہا کہ یہ نوجوان اب بھی قومی سلامتی کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے۔ عدالت نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ دشمن ریاستیں اسے محفوظ پناہ گاہ فراہم کر سکتی ہیں اور اسے امریکہ سے فرار ہونے میں سہولت فراہم کر سکتی ہیں۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ 20 سالہ نوجوان نے جو مواد دیکھ رکھا تھا وہ سب مواد عوامی طور پر نہیں دکھایا گیا، تمام مواد ظاہر ہونے کی صورت میں امریکہ کی قومی سلامتی کو اضافی اور غیر معمولی طور پر خطرناک نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔پینٹاگون پیپرز لیک کرنے والے ملزم نے روسی مسلح افواج کا ہار لٹکایا اور اپنے کمرے کی دیواروں کو سجانے کے لیے لگائی گئی انسانی تصاویر کو گولیوں سے چھلنی کرنے کے اہداف کے طور پر استعمال کیا۔دستاویزات کے مطابق جیک ٹیکسیرا نے اپنی بندوق کا لاکر اپنے بستر سے تقریبا دو فٹ کے فاصلے پر رکھا جس میں متعدد ہتھیار موجود تھے۔ ان ہتھیاروں میں پستول، خودکار رائفلیں، شاٹ گن، ایک اے کے اور ایک گیس ماسک شامل تھے۔ ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو اس کے لاکر سے گولہ بارود، ٹیکٹیکل بیگ اور اس کے ڈیسک دراز سے سائلنسر طرز کا سامان بھی ملا ہے۔چونکا دینے والے انکشاف کے بعد یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ٹیکسیرا کو ایئر فورس میں کیسے قبول کیا گیا اور اس نے اتنی اعلی سیکیورٹی کلیئرنس کیسے حاصل کر لی تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے حاصل ہونے والے شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ تشدد اور قتل کے بارے میں باقاعدہ تبصرے کر رہا تھا۔ ٹیکسیرا نے تین الگ الگ مواقع پر آتشیں اسلحہ کے شناختی کارڈ کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

پہلی مرتبہ 2018 میں جب وہ ابھی نوعمر تھا۔دستاویزات کے مطابق اسے ہائی سکول سے اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب ایک ہم جماعت نے اس سے مولوٹوف کاک ٹیلز سمیت ہتھیاروں اور سکول میں بندوقوں اور نسل پرستانہ دھمکیوں کے بارے میں باتیں سنی تھیں۔ اس کے بیانات پر سکول والوں نے پوچھا تو اس نے کہا میری یہ باتیں ویڈیو گیم کا حوالہ تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…