منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

راہداری منصوبے سے خطے میں خوشحالی آئیگی،خرم دستگیر

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاک چین اکنامک کوریڈور کی تکمیل کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کریں، انھیں ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔پاکستان جنوری 2016میں شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل ممبر بن جائے گا جس کی بدولت تنظیم کے ممبر ممالک کے ساتھ سیاسی، معاشی اور تجارتی تعلقات میں تیزی سے بہتری آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے چین کے شہر زیان میںشنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے تجارت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تنظیم کے چھ ممبران میں چین، روس، تاجکستان، قازقستان، کرغستان اور ازبکستان شامل ہیں، پاکستان تنظیم کا آبزرور ممبرہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کے’ ایک پٹی ایک سڑک‘ منصوبے سے منسلک پاک چین اکنامک کوریڈور خطے کی خو شحالی کا ایک عظیم الشان منصوبہ ہے جس کے ذریعے سرمایہ کاری اور تجارت میں بے پناہ اضافہ ہو گا اور خطے کو ریل، روڈ، فائبرآپٹک کیبل، بینکنگ نیٹ ورک اور توانائی کی پائپ لائنز کے ذریعے منسلک کر دیا جائے گا، پاکستان کیلیے اس خطے کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے عہدہ سنبھالنے کا بعد ان تمام ممالک کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اکنامک کوریڈور کی تکمیل کے بعد چین اور وسطی ایشیا کے سمندری ساحلوں سے محروم ممالک کیلیے پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت مالی لحاظ سے انتہائی سود مند ثابت ہو گی۔پاکستان، چین، کرغستان اور قازقستان کے مابین ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر مذاکرات جاری ہیں جس کی بدولت ان ممالک کا تجارتی سامان پاکستان کے گرم پانیوں کے ذریعے سفر کر سکے گا، حال ہی میں پاکستان نے عالمی ٹی آئی آر کنونشن میں شمولیت اختیار کی ہے جس کا نفاذ بھی جنوری 2016سے ہو گا۔
اس کنونشن کے ذریعے شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک سے تجارت میں مزید سہولت میسر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا، وسطی ایشیا اور چین کے مابین مواصلات اور توانائی کوریڈورز کا محور بننے جا رہا ہے۔ اجلاس سے قبل وفاقی وزیر نے چینی صوبے شن زی کے گورنر لوچن جیان سے ملاقات کی اور باہمی تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…