ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کے ذمے بینکوں کے قرضے 182 فیصد اضافے سے 30 کھرب کے قریب پہنچ گئے

datetime 25  اپریل‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران بینکوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو دئیے جانے والے قرضوں میں 182 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نجی شعبے کو دئیے جانے والے قرضوں میں 83 فیصد کمی دیکھی گئی ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ بینکس نجی شعبے کو قرض دینے کے بجائے سرکاری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں۔رپورٹ کے مطابق جولائی سے 7 اپریل تک وفاقی حکومت کو 20 کھرب 940 ارب روپے کا قرضہ دیا گیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران ایک ہزار 43 ارب روپے تھاجو182 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے، حکومت کی جانب سے بینکوں سے قرض لینے میں یہ بڑا اضافہ زیادہ اخراجات اور ناکافی ریونیو اکٹھا کرنے کی وجہ سے ہوا۔ابتدائی 9 ماہ کے دوران نجی شعبے کو قرضے 83.6 فیصد یا 993 ارب روپے کم ہو کر 194 ارب روپے ہو گئے جو گزشتہ برس کی اسی مدت میں ایک کھرب 187 ارب روپے تھے۔بینکوں کا خیال ہے کہ بلند شرح سود کے سبب نجی شعبے کو قرض دینے میں خطرات بڑھ گئے ہیں، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر بھی ایسے نرخوں پر قرض لینے سے گریز کر رہا ہے جن سے کاروبار کو منافع بخش بنانا ممکن نہ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…