بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

طلبہ کا ٹیسٹ لینے والے این ٹی ایس کے سی ای او کا پی ایچ ڈی مقالہ چوری شدہ نکلا

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اگر کسی تعلیمی ادارے کا سربراہ خود ہی چوری کا مقالہ جمع کراکے جعلی ڈگری حاصل کرتا ہو تو پھر آپ اس ادارے کی تعلیمی قابلیت اور لئے جانے والے ٹیسٹ کے معیار کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق این ٹی ایس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کامسیٹس یونیورسٹی کے پروریکٹر ڈاکٹر ہارون الرشید نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے جو مقالہ جمع کرایا وہ طلبہ کا چوری کردہ تھا۔ ایچ ای سی نے بھی ڈاکٹر ہارون الرشید کی جعلی ڈگری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقالے میں 72 فیصد مواد چوری شدہ ہے۔ایچ ای سی نے21 اگست کو کامسیٹس یونیورسٹی کے حکام کو ایک خط لکھا جس میں ان سے ڈاکٹر ہارون الرشید کی ڈگری سے متعلق 90 روز میں جواب طلب کرلیا ہے تاکہ کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر ہارون الرشید نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے میں اسٹوڈنٹس کا تھیسز چوری کیا اور پھر حکومت کی جانب سے انہیں شاندار کارکردگی پر ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔دوسری جانب سے خورشید شاہ کی زیر صدارت آج پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھی کامسیٹس یونیورسٹی اور این ٹی ایس میں گھپلوں اور کرپشن کے معاملے پر بھی بات چیت کرنا تھی تاہم کامسیٹس کے معاملے کو پر اسرار طور پر پی اے سی کے اجلاس سے غائب ہی کر دیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ کئی عرصے سے کامسیٹس اور این ٹی ایس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور کرپشن کے الزامات چل رہے تھے اور پھر ایکسپریس نیوز نے جب حکام بالا کی توجہ اس اہم معاملے کی جانب دلائی تو اس معاملے کا نوٹس لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…